حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 409
حقائق الفرقان ۴۰۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة رضاء پر راضی ہو جاؤ اور قرآن کریم پر عمل کرو۔الحکم جلد ۲ نمبر ۲۶، ۲۷ مورخه ۶ و ۱۳ رستمبر ۱۸۹۸ء صفحه ۱۰) ۱۵۹ - إِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَابِدِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ تَطَوَّفَ بِهِمَا ۖ وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا ۚ فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ - ترجمہ۔بے شک صفا اور مروہ کے پہاڑ اللہ کی باتوں کا شعور حاصل کرنے کے لئے ہیں تو جو شخص خانہ کعبہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں اگر دونوں کے درمیان طواف کرے اور جو اپنے شوق سے کوئی آدمی نیکی کرے تو بے شک اللہ قدر دان بڑا جانے والا ہے۔تفسیر۔صبر کا نتیجہ دیکھ صفا و مروہ پر کہ کیسے مقام پر ہاجرہ نے رہنا اختیار کر لیا جو بے کھیت کا ملک ہے پھر صبر کے بدلہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اولا دکو کیسا سکھ دیا۔الحکم جلد ۲ نمبر ۲۶، ۲۷ مورخه ۱۳۹۶ ستمبر ۱۸۹۸ء صفحه ۸) باجرہ نام ایک عورت تھی جو میری تحقیق کے مطابق ملک مصر کی ایک شاہزادی تھی۔ابراہیم کی کرامتوں کو دیکھ کر بادشاہ نے اپنی لڑکی ابراہیم کے نکاح میں دے دی۔نوجوان اور خوبصورت اور باکرہ تھی اُس وقت ابراہیم کی عمر ۸۴ سال تھی جبکہ وہ حاملہ ہوئی۔میں بہت ہی مختصر سناتا ہوں کہ پہلی بی بی نے اسے نکلوا دیا۔اس پر اللہ سے مکالمہ ہوا کہ کیوں نکلی ؟ آپ نے عرض کیا کہ بڑی بی بی رہنے نہیں دیتی۔خدا نے فرمایا واپس جاؤ اور اس کی فرمانبردار ہوکر رہو۔اس صبر کے بدلے میں ہم تمہیں ایک لڑکا دیں گے جس کی اولا د تمام جہان کے لئے موجب ہدایت ہوگی اور آسمان کے تارے اور ریت کے ذرے گنے آسان ہوں گے مگر تیری اولا د کو کوئی نہ گن سکے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔پھر جب دوبارہ اس بی بی نے ہاجرہ کو دکھ دیا تو ابراہیم انہیں مکہ میں چھوڑ گئے۔ابراہیم سے پوچھا کہ ہمیں کس کے سپرد کرتے ہو؟ آپ نے اس کا جواب نہیں دیا۔پھر پوچھا کہ کس کے حکم سے یہاں لائے ہو؟ فرمایا خدا کے حکم سے۔اس پر اس نیک بخت صابرہ بی بی نے کہا تو پھر اب تمہاری ضرورت نہیں۔اس بی بی کے پاس نہ روپیہ تھا نہ مال اسباب تھا نہ مویشی تھے۔بچہ بھی چھوٹا تھا وہاں کوئی غمگسار نہ تھا۔