حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 32 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 32

حقائق الفرقان ۳۲ سُوْرَةُ الْفَاتِحَة انجن کے زور سے خود بخود کام کرتی ہے نہ تھکتی ہے نہ سُست ہوتی ہے اسی طرح افعال حسنہ کا اس سے سرزد ہونا۔اسے نبی کہتے ہیں۔(البدر جلد نمبر ۱۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۹۵) انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔جن پر انعام ہوا۔وہ نبی۔صدیق۔شہید اور صالح ہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ رفروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۲) مرزا نے دعوئی مکالمہ الہیہ کا کیا۔مگر اس دعوے کی بنا اس پر تھی کہ اللہ تعالیٰ اپنے صفات میں آلان كما حان ہے۔پس اگر وہ پہلے کسی سے بولتا اور کلام کرتا تھا تو اب وہ کیوں نہیں بولتا اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَتَ عَلَيْهِمُ میں دعا ہے کہ الہی ! انبیاء، صدیقوں، شہداء اور صلحاء کی راہ عطا فرما اور ان راہوں میں ایک راہ مکالمہ کی بھی ہے۔پس اگر ہم مکالمہ کے مدعی ہیں تو کیا کفر کیا ؟ بنی اسرائیل کو اس لئے عبادت عجل پر ملامت ہوئی۔اَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا (الاعراف: ۱۴۹) کہ ان کا معبودان سے بات نہیں کرتا اور ان کو ہدایت نہیں فرماتا۔پس اس وقت کیوں مسلمان مکالماتِ الہیہ سے انکار کرتے ہیں؟ ( مرقات الیقین فی حیات نورالدین۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۴۹) خدا کا کسی کو نعمت دینا اور پڑوں کسی سابق مزدوری اور کسی محنت کے اللہ تعالیٰ کا انعام اور اکرام کرنا اس کی رحمت اور فضل کا نشان ہے جو باری تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی صفت ہے۔تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائزڈ ایڈ یشن صفحہ ۱۶۱) غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ۔نہ ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا غضب دنیا میں ہی آیا۔اس سے پہلی آیت میں جلب خیر کا ذکر ہو چکا اب دفع ضرر کی دعا تعلیم کی اور اس سے مراد یہودی ہیں جنہوں نے غضب الہی حاصل کیا۔وہ کیا افعال تھے جن سے وہ مغضوب ہوئے اس سے سارا قرآن بھرا ہو ا ہے انشاء اللہ اپنے وقت پر ذکر ہوگا۔( البدر جلد نمبر ۱۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۶٬۹۵) الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ۔میں منعم علیہ بن کر تیرا مغضوب نہ بنوں۔مغ مغضوب کے دو