حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 31 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 31

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْفَاتِحَة فطرت انسانی انسان کی منی کے ان کیڑوں میں جو کچھ بننے والے ہوتے ہیں تین صفات عجیبہ پائے جاتے ہیں۔ا۔چلنے میں انحراف نہیں کرتے۔ادھر ادھر نہیں ہوتے سیدھا چلتے ہیں۔پیچھے نہیں ہٹتے۔۔ان کا ایک انتہائی مقصد ہوتا ہے کہ انڈے کے اندر گھس جائیں۔اس مقصد کو نہیں چھوڑتے۔ان ہر سہ باتوں کی ہم کو اب بھی ضرورت ہے۔انسان کی ترقی اگر ہر آن جاری نہ رہے تو وہ مرجاتا ہے۔ہر آن دوران خون کے چلتا رہنے کی ضرورت ہے جو انسان کل تھا وہ آج نہیں۔ہر آن جسم میں ایک تغیر ہے۔ہم بچے تھے، جوان ہوئے ، اب بوڑھے ہو گئے۔وہ جسم جو بچپن میں تھا وہ کہاں ہے۔اسی طرح ہر وقت علم میں بھی ترقی چاہئے۔کل والا علم آج کے واسطے بس نہیں اور اسی طرح عمل میں ترقی ضروری ہے۔(البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۰ /اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹ تا۳۱) صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ - ترجمہ۔جو تیرے مقبول بندوں کی ہے۔ان کی راہ مت چلا جن پر تو خفا ہوا اور نہ ان کی جو سیدھی راہ سے بھٹک گئے۔تغییر اَنْعَمتَ عَلَيْهِمُ۔جن پر تیرا انعام ہوا۔منعم علیہ کی تفسیر خود قرآن نے کر دی ہے۔من النَّبِينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِينَ (النساء:۷۰)۔انسانی افعال کے چار ہی مراتب ہو ا کرتے ہیں۔اوّل مطلق کام صلاحیت سے کرنا۔اسے صالح کہتے ہیں۔دوسرے جب آقا یا حاکم سر پر کھڑا ہو تو وہ اس کام کو اور بھی تیزی سے کرتے ہیں تو اسے شہید کہتے ہیں۔تیسرے ٹھیکہ کے طور پر کام کرنا جس میں انسان کو خود بخودہی ایک فکر لگی ہوتی ہے کہ اس میں کوئی نقص نہ رہے اور بڑی دیانت سے کام لیتا ہے اسے صدیق کہتے ہیں۔چوتھے ایک کام میں اپنے آپ کو ایسا محو کرنا کہ وہ طبعی تقاضا ہو جاوے اور جیسے ایک مشین لے نبیوں اورصدیقوں اور شہیدوں اور صالحین کے ساتھ ہے۔( ناشر )