حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 408 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 408

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة حال و قال سے کہتے ہیں ہم اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔صبر کی مختصر حقیقت یہ ہے کہ انسان ہر ایک نیکی اور نیک بات پر جما ر ہے۔بدی سے رکا رہے۔گویا صبر تمام نیکیوں کا جامع ہے۔مشکل کے وقت بدی سے بچنا یہی تو صبر ہے۔شہوت میں عفت ، غضب کے وقت حلم ، حرص کے مقابل میں قناعت، وقار ، استقلال، ہمت، عزم پر کارفرما رہنا۔شرع و عقل سلیم کی مخالفت نہ کرنی۔یہ سب صبر ہے۔تفخیذ الا ذبان جلدے نمبر ۷۔جولائی ۱۹۱۲ ء صفحہ ۳۲۷) صلوۃ کے معانی صلوۃ۔تعریف کرنا، دعا کرنا۔وَصَلِّ عَلَيْهِمْ۔دعا کر وہ تعریف کرو۔اللہ تعالیٰ جس طرح اپنے رسول کی تعریف کر سکتا ہے دوسرا اس طرح کیونکر کر سکتا ہے۔صلوۃ کے معنے رحمت کے نہیں ہیں کیونکہ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ (البقرة- ۱۵۷) صَلَواتُ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ (البقرة: ۱۵۸) میں صلوۃ کے معنے رحمت البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخه ۵ /دسمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۹۳) پھر میں دیکھتا ہوں کہ انسان جس دنیا اور مال و اولاد کی خاطر ایسی ایسی تکلیفیں اٹھاتا ہے۔کے نہیں بنتے۔ان میں سے کوئی ایک بھی اس کی مصائب میں حصہ نہیں لے سکتا۔ذرا پیٹ میں درد ہو تو اس کے ہٹانے والا کوئی نہیں۔غور کرو۔مجھے حضرت مرزا صاحب نہایت ہی پیارے ہیں۔میں نے ملک، وطن، نوکریاں، زمین، ہر قسم کے ذرائع تحصیل مال و منال ان کے حضور خاص رہنے کی خاطر چھوڑیں ہیں۔اگر کہیں جاتا بھی ہوں تو صرف ان کے حکم کی تعمیل ہوتی ہے اور بھی یہاں تک مجھے وہ پیارے ہیں کہ اگر میرے پچاس بیٹے ہوں تو میں اس کے ایک بیٹے پر ان پچاس کو قربان کردوں لاکن غور کرو جب مجھے کوئی دکھ، درد، تکلیف پہنچتی ہے۔وہ بھی بجز رضاء الہی کے ہرگز ہرگز ہرگز میرے دکھ درد کا حصہ نہیں لے سکتے۔پس اللہ تعالیٰ ہی سے مدد مانگو اور صبر اور استقلال سے کام لو۔اس کی لے وہ بول اٹھتے ہیں ہم تو اللہ کے (مال) ہیں اور ہم تو ہر حال میں اُسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔اُن کے رب کی نوازشیں اور رحمت ہیں۔(ناشر)