حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 405 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 405

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة جن دنوں روس اور روم کی لڑائی ہو رہی تھی میں نے اپنی والدہ سے ایک روز کہا کہ اچھا ہوا گرتم اپنا ایک بچہ اس وقت قربان کر دو اور اسے مسلمانوں کی مدد کے لئے لڑائی میں بھیج دوخواہ میں ہی کیوں نہ ہوں۔میری والدہ نے کہا کہ ایں! میرے جیتے جی اتم مجھ سے الگ ہو جاؤ نہیں ہوسکتا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سب اولا دیں بجز میرے ان کی زندگی میں فوت ہو گئیں۔ایک روز میں اس کتب خانہ کے مکان میں لیٹا ہوا تھا جب کہ وہ بالکل خالی پڑا تھا۔میری والدہ صاحبہ وہاں آئیں اور انہوں نے اس حالت کو دیکھ کر بہت بلند آواز سے کہا کہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ (البقرۃ:۱۵۷) میں نے کہا کہ اتاں یہ آواز کی بلندی بے صبری سے معلوم ہوتی ہے۔مجھے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے مرنے پر شاید میں بھی نہ پاس ہوں گا یا اسی کے قریب الفاظ ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا جب ان کا انتقال ہوا تو میں کہیں دور تھا۔غرض اللہ تعالیٰ بڑا ہی بے نیاز اور نکتہ نواز ہے تم اپنے الفاظ سمجھ کر خدا سے ڈر کر منہ سے نکالا کرو۔پھر میں دیکھتا ہوں کہ عورتیں اللہ تعالیٰ کے احکام کی بالکل پرواہ نہیں کرتیں اور اپنے رسومات کی ایسی پابند ہیں جس کی کچھ حد نہیں ہے۔ہمارے پڑوس میں ایک عورت کے گھر میں بچہ پیدا ہوا ہے۔میرا دل اس بات کو دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ اس نے اپنی کسی منت کے واسطے قبل از تولد اور عین تولد پر تو بکرے ذبح کر دیے مگر جو امر مسنون اور ساتویں دن عقیقہ کرنے کا حکم تھا اس کے واسطے اس کے پاس خرچ نہیں کبھی اس لڑکے کا باپ آوے گا تو شاید کرے گا۔ایک اور عورت ہمارے پڑوس میں رہتی ہے کہ جو اپنی اولادکو ایسے ایسے خطرناک الفاظ سے پکارتی ہے کہ اگر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فرشتے آمین کہنے میں شامل ہوویں اور آمین کہہ دیں اور اس کی وہ بددعا قبول ہو جاوے تو شاید اللہ تعالیٰ پر اسے کتنی بڑی بدظنی اور ناراضی ہو۔احکم جلد ۲ نمبر ۲۶ ، ۲۷ مورخه ۶ و ۱۳ ستمبر ۱۸۹۸ صفحه ۹،۸) دیکھو یہ سب کچھ صبر ہی کا نتیجہ تھا۔سنو ! جس گھر میں کوئی مصیبت یا تکلیف آتی ہے اللہ تعالیٰ وہاں اپنے فرشتوں کو بھیجتا ہے کہ جو کچھ گھر والے کہیں تم ساتھ آمین کہو۔پس جو عورت بے صبری سے کلمات زبان پر لاتی ہے اگر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے فرشتے آمین کہہ دیں اور وہ دعا منظورِ خدا لے ہم تو اللہ کے ( مال ) ہیں اور ہم تو ہر حال میں اُسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔(ناشر)