حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 401
حقائق الفرقان وَالثَّمَرتِ۔جنگ میں بیٹے بھی مرتے ہیں کھیتی کی نگرانی نہیں ہو سکتی۔سُوْرَةُ الْبَقَرَة تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۴۰) اور ہم تم کو انعام دیں گے کسی قدر خوف کے بدلے اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کے کم کرنے کے بدلے اور خوشخبری دو صبر کرنے والوں کو کہ جنہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم تو اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔(نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائزر ڈایڈ یشن صفحہ ۲۵) جناب ہاجرہ علیہا السلام کو ایک بڑا ابتلا پیش آیا جس کا اشارہ اِن باتوں سے ہوا۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ (البقرة : ۱۵۶) اور انعام دیں گے ہم تم کو بدلہ میں تھوڑے سے خوف اور بھوک اور مالوں کی کمی اور جانوں کے اور پھلوں کے نقصان کے اور ان پانچوں پر امنا باجرہ نے انَّا لِلہ اور اِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ کہا۔ہم سب اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف جانا ہے۔پس اپنے دو اقوال سے صبر و استقلال اور ایمان کا اظہار فرمایا۔اس واسطے اللہ تعالیٰ کریم ورحیم نے اس کی اولا دکو آمَنَهُم مِّنْ خَوف (قريش: ۵) امن دیا ان کو عظیم الشان ڈر أَطْعَمَهُم مِّنْ جُوع (قریش: ۵) کھانا دیا ان کو بھوک سے اور بلدہ کو بلدۂ مبارک فرما کر کثرت اموال و انفس و ثمرات اور الصبر کا نعم الاجر صلوات و رحمت عطا فرما کر اس کی اولا دکو ہدایت یافتہ فرمایا۔نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۳۳۵) مصائب شدائد پر صبر کرنے والوں کو اجر ملتے ہیں چنانچہ حدیث شریف میں آیا کہ ہر مصیبت پر إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ پڑھ کر یہ دعا مانگو اللهُم أَجْرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْنِي خَيْرًا مِّنْهَا (المسلم - كتاب الجنائز باب ما يقال عند المصيبة) اور قرآن شریف میں مشکلات اور مصائب پر صبر کرنے والوں کے واسطے تین طرح کے اجر کا وعدہ ہے۔وبشر الصُّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ - أُولَبِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَ ا جس نے ان کو بھوک کے وقت کھانا دیا۔(ناشر) سے اے اللہ میری مصیبت میں ( صبر کرنے پر ) اجر اور ثواب عطا فرما اور مجھے ( اس نقصان پر ) اس سے بہتر بدلے میں بخش۔(ناشر)