حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 400 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 400

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة دیا۔(۲) رشوت حرامزدگی، باطل سے مال ملتا ہے اُسے نہ لیا۔غرض نَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ ہوتا ہے زکوۃ دینے سے۔حرام سے بچنے سے یا کسی الہی حکمت کے ماتحت کسی چیز کے قبضہ سے نکل جانے سے۔وَالْأَنْفُسِس - جانوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنا۔القمرت۔پھلوں کی زکوۃ۔اور اس سے مراد اولا د بھی ہے۔انا للہ۔ایک شخص کا کوئی بہت پیارا مر گیا۔وہ بہت مضطرب تھا۔ایک دوست نے اسے آکر ایک کہانی سنائی کہ ایک شخص نے کسی کے پاس جواہرات امانت رکھے تھوڑے دن بعد جب وہ واپس لینے کو آیا تو اس نے رونا چیخنا چلا نا شروع کر دیا اس پر وہ شخص بولا جس کا بہت پیارا مر گیا تھا کہ پھر تو وہ بڑا ہی بیوقوف تھا جو امانت کو واپس دیتے ہوئے روتا ہے۔جب اس کے منہ سے یہ بات نکلی تو اس کے دوست نے کہا آپ اپنی طرف نگاہ کریں۔لڑکے بھی آپ کے خدا کی امانت تھے اگر خدا نے واپس لے لئے تو پھر جزع فزع کا کیا مقام ہے؟ إِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔یعنی اگر خدا با وجود اس کا مالک، اس کا بادشاہ اور اس کا خالق وربّ ہونے کے کوئی چیز لے لیتا ہے تو غم کی بات نہیں کیونکہ ہم نے بھی اسی کے حضور جانا ہے اور وہاں جا کر اس کا نعم البدل پانا ہے بلکہ اسی دنیا میں بھی۔میرے نوٹڑ کے لڑکیاں (عبد اللہ، اسامہ، حفیظ الرحمن محمد احمد، عبد القیوم ، امتہ اللہ ، رابعہ ، عائشہ، امامہ ) مرچکے ہیں ہر ایک کے مرنے پر میں نے یہی خیال کیا ہے کہ آخر ایک دن ہم نے جدا ہو نا تھایا میں نے مرنا تھا یا ان میں سے کسی نے۔بہر حال خدا کے پاس جا کر پھر جمع ہونا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اور بہت اولا د دے دی۔وَالْحَمْدُ للہ۔أوليكَ عَلَيْهِمْ صَلَوتُ۔صَلَوَات کہتے ہیں کہ بدی کا اثر اور سزا جس بات پر مرتب نہ ہو۔ان خاصہ عنایات کا نام صلوات ہوتا ہے۔رَحْمَةٌ۔یعنی علاوہ ان خاص عنایتوں کے عام رحمتوں سے بھی حصہ ملتا ہے۔یہ تو ایک دعوی تھا اب اس کا ثبوت میں بیان فرماتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۲ مؤرخه ۲۵ مارچ ۱۹۰۹، صفحه ۲۵)