حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 398
حقائق الفرقان ۳۹۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة وفات پائی ہے۔پس یہ خدا کا حکم ہے اور کوئی بھی اس بات کا مجاز نہیں کہ آپ کو مردہ کہے آپ مردہ نہیں۔آپ ہلاک شدہ نہیں بک اختیار بلکہ زندہ ہیں۔یا درکھو کہ یہ نہی الہی ہے۔ہم وجوہات نہیں جانتے کہ ایسا کیوں حکم دیا گیا بلکہ اس جگہ ایک اور نکتہ بھی قابل یاد ہے اور وہ یہ ہے کہ اور جگہ جہاں شہداء کا ذکر کیا ہے وہاں احیاء عند ربہم کا لفظ بھی بولا ہے مگر اس مقام پر عِند ربهم کا لفظ چھوڑ دیا ہے۔دیکھو انسان جب مرتا ہے تو اس کے اجزاء متفرق ہو جاتے ہیں مگر یہ خدا کا خاص فضل ہے کہ اس نے حضرت مرزا صاحب کی جماع کو جو بمنزلہ آپ کے اعضاء کے اور اجزاء کے تھی اس تفرقہ سے بچالیا اور اتفاق اور اتحاد اور وحدت کے اعلیٰ مقام پر کھڑا کر کے آپ کی زندگی اور حیاتِ ابدی کا پہلا زندہ ثبوت دنیا میں ظاہر کر دیا۔صرف تخمریزی ہی نہیں کی بلکہ دشمن کے مونہہ پر خاک ڈال کر وحدت کو قائم کر دیا۔دیکھو یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے الْمَبْطُونُ شَهِيدٌ اور دوسری طرف قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں جھنجھوڑ کر کہا ہے کہ مردہ مت کہو بلکہ یہ کہو کہ اختیا ر یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ہم نے خود دم نکلتے دیکھا، غسل دیا، کفن دیا اور اپنے ہاتھوں سے گاڑ دیا اور خدا کے سپر د کیا پھر یہ کیسے ہو کہ مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں مگر دیکھو اللہ فرماتا ہے کہ تمہارا شعور غلطی کرتا ہے۔میں یہ مسئلہ اپنے بھائیوں کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ وہ اپنے اندر غیرت پیدا کریں اور سچے جوش جو حق اور راستی کے قبول کرنے سے ان میں موجود ہو گئے ہیں ان کا اظہار کریں اور ہمیں دکھا دیں کہ واقعی ان میں ایک غیرت اور حمیت ہے اور ان مخالفوں سے پوچھیں کہ دشمن جو کہتا ہے کہ ہیضہ سے مرے ہیں۔اچھا مان لیا کہ دشمن سچ کہتا ہے پھر ہیضہ سے مرنا شہادت نہیں ہے؟ پیغام صلح جنگ کو ثابت کرتا ہے اور دشمن بھی اس بات کو تسلیم کرے گا کہ واقعی آپ کی وفات عین جہاد فی سبیل اللہ میں واقع ہوئی ہے۔دشمن نے خود بھی ہر طرح سے مورچہ بندی کی ہوئی تھی اور اپنے پورے ہتھیاروں سے اپنی حفاظت کے سامان کرنے کی فکر میں لگ رہا تھا۔اراکین اور امراء لے دستوں کی مرض سے وفات پانے والا شہید ہے۔( ناشر )