حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 397
حقائق الفرقان ۳۹۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة بائیں طرف تھوکنا، لاحول پڑھنا، استغفار، درود اور الحمد شریف کا کثرت سے وظیفہ کرنا۔ان ہتھیاروں سے مسلح ہو کر ان آیات کا مضمون سن لو۔تم نے سنا ہو گا اور مخالفوں نے بھی محض اللہ کے فضل سے اس بات کی گواہی دی ہے اور تم میں سے بعض نے اپنی آنکھ سے بھی دیکھا ہوگا کہ حدیث شریف میں آیا الْمَبْطُونُ شَهِيدٌ (بخاری کتاب الاذان باب فضل التهجير الى الظهر) وہ جو دستوں کی مرض سے وفات پاوے وہ شہید ہوتا ہے۔مبطون کہتے ہیں جس کا پیٹ چلتا ہو یعنی دست جاری ہو جاویں۔اب جائے غور ہے کہ آپ (حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) کی وفات اسی مرض دستوں ہی سے واقع ہوئی ہے۔اب خواہ اسی پرانے مرض کی وجہ سے جو مدت سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور ایک نشان کے آپ کے شامل حال تھا یا بقول دشمن وہ دست ہیضہ کے تھے۔بہر حال جو کچھ بھی ہو یا مرقطعی اور یقینی ہے کہ آپ کی وفات بصورت مبطون ہونے کے واقع ہوئی ہے۔پس آپ بموجب حدیث صحیح کہ مبطون جو مرض دست سے خواہ کسی بھی رنگ میں ہو وفات پانے والا شہید ہوتا ہے۔پس اس طرح سے خود دشمنوں کے منہ سے بھی آپ کی شہادت کا اقرار خدا نے کرا دیا تُقتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ سے مراد لڑائی اور جنگ ہوتی ہے۔لڑائی اور جنگ ہی میں صلح ہوتی ہے۔خدا نے آپ کو پیغام صلح دینے کے بعد اُٹھایا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب جنگ کا خاتمہ ہونے کو ہے کیونکہ اب صلح کا پیغام ڈالا گیا ہے مگر خدا کی حکمت اس میں یہی تھی کہ آپ کو حالت جنگ ہی میں بلالے تا آپ کا اجر جہاد فی سبیل اللہ کا جاری اور آپ کو رتبہ شہادت عطا کیا جاوے۔یہی وجہ ہے کہ عملی طور پر اس صلح کی کارروائی کے انجام پذیر ہونے سے پہلے جبکہ ابھی زمانہ زمانہ جنگ ہی کہلاتا تھا اُٹھا لیا۔اب اللہ تعالیٰ کہتا ہے۔يَآتِهَا الَّذِينَ آمَنُوا ہم سناتے ہیں ذرا غور سے توجہ سے اور خبر دار ہو کر سن لو۔اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو کیا کہتے ہیں؟ یہی کہ تم ان لوگوں کے حق میں یہ کبھی بھی مت کہیو جو خدا کی راہ میں جان خرچ کر گئے ہیں اور خدا کی راہ میں شہید ہوئے ہیں۔کیا مت کہیو ؟ یہ مت کہیو کہ وہ مر گئے ہیں۔وہ مرے نہیں بلکہ وہ زندہ ہیں۔آپ نے خدا کی راہ میں تبلیغ احکام البیہ میں ، خدا کی راہ میں حالت سفر میں