حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 396
حقائق الفرقان ۳۹۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة متوسط درجہ کے آدمی بھی اور ایک مومن بھی سمجھ سکتا ہے۔گویا ان کی حیات قائم رہتی ہے۔اسے تو ایک مومن سمجھ سکتا ہے۔دوسری بات کہ متوسط درجہ کا عرب سمجھ سکتا ہے کہ اہل عرب کا محاورہ ہے کہ جس کا بدلہ لیا جاوے اسے وہ مردہ نہیں کہتے بلکہ زندہ کہتے ہیں۔شہید کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو تم میں سے مرے گا اس کا بدلہ لیا جاوے گا۔تیسری بات کہ ایک جاہل بھی سمجھ سکتا ہے یہ ہے کہ جب میدان ہاتھ آوے اور فتح ہو جاوے تو پھر مردوں اور مقتولوں کو مردہ اور مقتول نہیں سمجھتے اور نہ ان کا رنج و غم ہوتا ہے میرا اپنا اعتقاد ہے کہ شہید کو ایک چیونٹی کے برابر بھی درد محسوس نہیں ہوتا اور میں نے اس کی نظیر میں خود دیکھی ہوئی ہیں۔البدر جلد ۲ نمبر ۹ مؤرخه ۲۰ / مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۶۹) آج یہ جو دو آیت میں نے تمہارے سامنے پڑھی ہیں یہ میرے کسی خاص ارادے، غور وفکر کا نتیجہ نہیں اور نہ میں نے کوئی تیاری قبل از وقت اِس مضمون اور ان آیات کے متعلق آج جمعہ کے خطبہ میں سنانے کی کی تھی۔وعظ کا بیشک میں عادی ہوں مگر یہ آیتیں محض اللہ تعالیٰ کی ہی طرف سے دل میں ڈالی گئیں۔اس کا مطلب سمجھنے کے واسطے میں پہلے تمہیں تاکید کرتا ہوں۔توجہ سے سنو اور یا درکھو جب تمہیں کوئی وسوسہ پیدا ہو تو پہلے دائیں لے طرف تھوک دو پھر لاحول پڑھو اور ان باتوں کو کثرت سے استعمال کرو۔دعا کرو۔پھر تاکید سے کہتا ہوں کہ اب تمہارا کام یہ ہے کہ ہتھیار بند ہو جاؤ ، کمریں کس لو اور مضبوط ہو جاؤ۔وہ ہتھیار کیا ہیں ؟ یہی کہ دعائیں کرو۔استغفار، لاحول، درود، اور الحمد شریف کاورد کثرت سے کرو۔ان ہتھیاروں کو اپنے قبضہ میں لو اور ان کو کثرت سے استعمال کرو۔میں ایک تجربہ کار انسان ہونے کی حیثیت سے اور پھر اس حیثیت سے کہ تم نے مجھ سے معاہدہ کیا ہے اور میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے تم کو بڑے زور سے اور تاکیدی حکم سے کہتا ہوں کہ سر سے پاؤں تک ہتھیاروں میں محفوظ ہو جاؤ اور ایسے بن جاؤ کہ کوئی موقعہ دشمن کے وار کے واسطے باقی نہ رہنے دو۔لے دائیں سہو کتابت ہے۔اصل میں بائیں طرف ہے۔(ناشر)