حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 30 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 30

حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْفَاتِحَة جنابت کے ساتھ امامت کرتے ہیں؟ یا عدالتوں کے وہ گواہ مسلمان ہیں جو قرآن شریف لے کر جھوٹی قسم کھاتے ہیں؟ یا وہ مقدمہ باز اور وکیل مسلمان ہیں جو خود ایسے گواہ بناتے ہیں ؟ آہ! مسلمان کہاں ہیں؟ ذرا قرآن شریف پڑھو! ذرا قرآن شریف پڑھو! اس میں مومنوں کی کیا نشانی لکھی ہے۔انما الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ أَيْتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (الانفال : ٣ )۔ترجمہ۔مومن تو وہ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دھڑکتے ہیں اور جب اُن پر نشانات الہی پڑھے جائیں تو ان کا ایمان بڑھتا ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ایسا ہی دوسری جگہ لکھا ہے کہ ذکر الہی سے اُن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔پس غور کرو کہ ایسے لوگوں کو صراط مستقیم مانگنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ دوم۔جیسا کہ دنیوی امور میں ترقی کی کوئی حد نہیں ایسا ہی دینی امور میں بھی ترقی کی کوئی حد نہیں۔دنیوی مثال دیکھو ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے وقت انسان پیادہ جاتا ہے۔گھوڑے پر سوار ہو کر جاتا ہے۔پھر ہاتھی کی سواری ہے۔پھر بیل گاڑی، اگہ ٹم ٹم ، فٹن ہے۔پھر بائیسکل، موٹر ،ٹریم، ریل، جہاز ہے اور اب ایک نئی سواری ایروپلین ہے ابھی بس نہیں۔دیکھئے آگے کیا کچھ ایجاد ہوتا ہے۔یہ دنیوی راہوں کے طے کرنے کے ذرائع ہیں۔ایسا ہی دینی راہوں کے طے کرنے واسطے بھی طریقے ہیں اور محامد الہیہ اور اس کی رضا کی راہوں کے علم میں ترقی کی حد نہیں۔علماء، اولیاء، انبیاء جس قدر ترقی کرتے جاتے ہیں اس قدر انشراح بڑھتا جاتا ہے۔میں نے آج قرآن شریف شروع کرنے سے قبل دعا کی ہے۔ہر دفعہ جب میں قرآن شریف سناتا ہوں مجھے ایک نیا انشراح ہوتا ہے اور ہر دور میں کچھ نئے علوم کھلتے ہیں۔ہمارے زمانے میں جولٹریچر تھا اس میں آج بہت فرق ہو گیا ہے۔الفاظ کا ہجا کرنے تک طریق بدل گیا ہے۔ہر روز طریقہ تعلیم میں ایک نئی راہ نکلتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک کو تو حکم ہوتا ہے کہ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا ( طه : ۱۱۵) دعا مانگ کہ اے رب ! میراعلم بڑھا۔جب یہ دعا آپ کی ہے صلی اللہ علیہ وسلم تو ہم کون ہیں جو کامل ہو چکے ؟ یہ سب صراط مستقیم ہے۔