حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 385
حقائق الفرقان ۳۸۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة تفسیر - بِكُل آية - ۱۲ باب پیدائش۔یسعیاہ : ۶۰،۴۵،۴۲۔بیت اللہ کے اعزاز کی بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو مکہ کے متعلق ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم خواہ کس قدر آیات پیش کرو یہ مانیں گے نہیں۔تیری کیا مانیں جو ان میں ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخه ۲۵ / مارچ ۱۹۰۹ء صفحه ۲۴) b اپنا اتفاق نہیں۔۱۴۷ - الَّذِينَ أَتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ ابْنَاءَهُم ، وَ اِنَّ فَرِيقًا منْهُمْ لَيَكْتُبُونَ الْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ - ترجمہ۔اہل کتاب ( محمد مصطفی احمدمجتبی ) کو پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور کچھ لوگ اُن میں کے ایسے بھی ہیں جو ضرور چھپاتے ہیں حق بات کو حالانکہ وہ جانتے ہیں۔تفسیر - يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ - انسان بیٹے کو پہچانتا ہے اور اسے اپنا بیٹا مانتا ہے حالانکہ اگر شک کرنے لگے تو پھر مشکلات کا سامنا ہے۔ممکن ہے کہ وہ اس کے نطفے سے نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اتنی حد تک تو ہم سمجھا چکے ہیں کہ جتنی حد تک بیٹے کے لئے ثبوت درکار ہے اور اگر شک کرنے لگے تو پھر کئی شبہات ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۲ مورخه ۲۵/ مارچ ۱۹۰۹ صفحه ۲۴) يَعرِفُونَ ابْنَاءَهُم - قرائن سے اپنی اولا دکو پہچانتا ہے۔شبہ تو ہوسکتا ہے۔تشخیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۰) ۱۴۸ - اَلْحَقُّ مِنْ رَبَّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ - ترجمہ۔سچ تیرے پروردگار کی طرف سے ہی ہے تو تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جانا۔تفسیر۔اس سوال کے جواب میں کہ بادی اسلام متشکلک تھے، تحریر فرمایا۔بڑی دلیل سائل کی سورہ بقرہ کی آیت ذیل ہے۔اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ (البقرة: ۱۴۸) سو اس کا پہلا جواب یہ ہے لا تكون نفی کا صیغہ ہے نہ نہی کا اور تاکید کے واسطے نون مشدّد اس کے آخر زیادہ کیا گیا تو لا تكونن ہو گیا۔مشد دنون ماضی اور حال پر نہیں آسکتا۔پس لا تكونن