حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 380 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 380

حقائق الفرقان ۳۸۰ سُورَة البَقَرَة۔جانب کو منہ کر کے عبادت الہی کرنے میں پائی جاتی ہے وہ دوسری صورت میں کہاں پیدا ہوسکتی ہے۔لطف تو اس میں ہے کہ ایک خدا کے پرستار ایک کتاب کے ماننے والے ایک ہی رسول کے مطبع ایک ہی جانب کو منہ کر کے عبادت الہی کرتے ہوں جو اُن کی پجہتی اور ان کے ہم اصول ہونے پر ایک مضبوط دلیل ہے۔اور اس میں کیا مزا ہے کہ زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک خدا کی پرارتھنا کرتے ہیں اور جب پرارتھنا کرنے کے لئے بیٹھیں تو جس طرف کو ایک مہاشہ کا منہ ہو ادھر دوسرے کے چوتڑ ہوں اور جدھر تیسرے کے چوتڑ ہوں اُدھر چوتھے کا منہ ہو۔گویا کہ جنگل میں ایک دوسرے سے روٹھے ہوئے بیٹھے ہیں۔اب غور کر کے دیکھو کہ آیا یہ فطرت انسانی کے عین مطابق ہے یاوہ۔پھر کسی کی عبادت کے لئے دل میں اعتقاد ہوتا ہے معبود کے سامنے انسان اپنے آپ کو ذلیل خیال کرتا ہے۔تعظیمات کے الفاظ بولتا ہے۔اس سے دعائیں مانگتا اور التجائیں کرتا ہے۔اس کے حسن و احسان کا اقرار کرتا ہے اس سے امن و امان کی درخواست اور مصائب کے دور ہونے کی نہایت تذلل کے ساتھ دعائیں کرتا ہے۔البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخه ۲۱ / نومبر ۱۹۱۲ صفحه ۸۰) دو قسم کے اہل مذاہب ہیں ایک اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے والے دوسرے مذاہب پر عیب چینی کرنے والے۔آخر الذکر جھوٹے ہیں۔عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا یہ طعنہ دیا کفار نے کہ ان مسلمانوں کا مرکز تو مکہ تھا کیوں ان کو وہاں سے نکال دیا گیا۔جواب دیا گیا مشرق و مغرب اللہ کا ہے عنقریب فتح ہوگا۔شهدا آو۔بادشاہ۔سبعہ معلقہ کا ایک شعر اس پر گواہ ہے۔تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۰) اور وہ قبلہ جو ہم نے ٹھہرایا جس پر تو تھا نہیں مگر اسی واسطے کہ معلوم کریں کون تابع ہے رسول کا اور کون پھر جاوے گا اُلٹے پاؤں۔(فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب۔حصہ دوم صفحہ ۲۸۶ حاشیہ)