حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 377 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 377

حقائق الفرقان ۳۷۷ سُورَة البَقَرَة سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ۔یہ بڑی یا درکھنے والی بات ہے کہ صرف عیب چینی بہت بری بات ہے۔میں چھوٹا بچہ تھا تو ایک کتاب میں نے پڑھی جس کا نام ” دل بہلاؤ تھا۔اس میں سے دو کہانیاں مجھے یاد ہیں ایک یہ کہ حضرت مسیح کہیں جارہے تھے آپ نے ایک مردہ کتا دیکھا تو کسی نے کہا کہ دیکھئے کیا خراب شکل ہے۔آپ نے فرمایا اس کے دانت بہت خوبصورت ہیں۔کتاب والا اس کہانی سے یہ عمدہ نتیجہ نکالتا ہے کہ اچھے آدمی خوبیوں کی طرف نظر رکھتے ہیں مگر بڑے جنہیں میں بدقسمت کہوں گا نکتہ چینیوں کی طرف جھک جاتے ہیں۔پھر ایک اور کہانی لکھی ہے کہ ایک سورآتا تھا۔مسیح دیوار کی طرف ہو گئے اور کہا کہ آپ سلامتی سے نکل جاویں۔کسی نے کہا کہ ایک سو ر سے ایسا ادب۔فرمایا میں زبان کو درست رکھتا ہوں۔تین قومیں دنیا میں ہیں ایک عیسائی۔انہوں نے تمام انبیاء کے معاصی کو بیان کرنے کا ٹھیکہ لیا ہے۔معصوم نبی کے نام سے جو رسالے نکلتے رہتے ہیں ان میں مقدس لوگوں کی اس قدر عیب چینیاں ہوتی ہیں کہ ان کو دیکھ دیکھ کر ہماری کتابوں میں بھی بدگمانیاں پھیل گئی ہیں۔اس کا نتیجہ دیکھو کہ خود یہ قوم فسق و فجور میں مبتلا ہو گئی ہے حتی کہ شریعت کے قانون کا نام لعنت رکھا ہے اور زنا کوئی جرم ہی نہیں۔دوم۔بدقسمتی سے مسلمانوں میں چند شر پر اتنفس لوگوں نے دنیا کے لئے دین کا جھوٹا پیرایہ اختیار کر کے غلط فہمیاں پھیلائیں اور مومنوں کے دو فریقوں میں سے ایک کی عیب چینی کر کے ان میں فساد ڈلوا دیا۔یہ لوگ تمام صحابہ، تابعین، ازواج النبی کو فاسق ، فاجر ، ظالم ، کافر کہتے ہیں حتی کہ ان کے ایک مفتر نے لکھا ہے آدم سے لے کر ایں دم تک کوئی گناہ نہیں جس کا مرتکب عمر" نہیں اور دوسرے بد بخت تمام اہل بیت پر تبر کر تے ہیں۔تیسری قوم آریہ کی ہے ان کی نظر بھی عیب ہی پر پڑتی ہے اپنی خوبی کے اظہار کا کوئی ذریعہ نہیں۔ہاں دوسرے مقدسوں کو گالیاں سناتے ہیں۔اس کی سزا انہیں یہ ملی کہ خود نیوگ کا مسئلہ ان میں جاری ہوا جو فسق و فجور کی جڑ ہے۔