حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 27
حقائق الفرقان ۲۷ الْمُسْتَقِيمَ۔(الفاتحة: (۶) موجود ہے جس کے معنے ہیں دکھا ہمیں سیدھی راہ۔- اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - سُوْرَةُ الْفَاتِحَة تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۵۷) ترجمہ۔ہمیں وہ پاس والی سیدھی راہ چلا۔تفسیر القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔خط مستقیم اسے کہتے ہیں جو دو نقطوں کے درمیان چھوٹے سے چھوٹا خط بیچ سکے۔اس لئے اس کے معنے ہوئے بہت ہی اقرب راہ جو ہر ایک قسم کی افراط اور تفریط سے پاک ہو۔ہم کو سیدھی راہ یا قریب ترین راہ چلا۔اھد کے معنے ہدایت کر۔البدر جلد نمبر ۱۲ مورخه ۱۶ /جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۵) ہدایت کے معنے قرآن شریف میں چار طرح پر آئے ہیں۔۔قومی یا خواص طبعی۔کہ جس سے ہر ایک شئے اپنے اپنے فرض منصبی کو بجالا رہی ہے۔قرآن شریف نے یہ معنے بیان کئے ہیں جہاں فرمایا۔اغطی محلّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى (طه:۵۰) یعنی ہر ایک شے کو پیدا کر کے اس میں اس کے خواص رکھ دیئے ہیں۔۲۔حق کی طرف بُلانا - إِنَّكَ لَتَهْدِى إِلى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (الشوری: ۵۳) یعنی تُو خداشناسی کی بہت اقرب راہ کی طرف بلاتا ہے۔توفیق جیسے زَادَهُمْ هُدًى (محمد : ۱۸)۔۴۔کامیاب با مراد کرنا جیسے فرمایا۔الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى هَدينا لهذا (الاعراف: ۴۴) خدا ہی کی حمد ہے جس نے ہمیں یہ کامیابی عطا کی۔(البدر جلد نمبر ۱۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۹۵) اهدنا۔چلا ہم کو۔جمع کا صیغہ ہے۔مومن کو چاہیے کہ صرف اپنے واسطے دعا نہ کرے بلکہ دوسروں کو بھی ساتھ لے ان کو اللہ نے اور بھی ہدایت دی ہے۔(ناشر)