حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 337 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 337

حقائق الفرقان ۳۳۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة پھر بنی اسرائیل کا بار بار ذکر کیا کہ اے بنی اسرائیل! اللہ کی اُن نعمتوں کو یاد کر وجو اس نے تم پر کیں۔پہلوں میں اور ان میں یہ فرق دکھلایا کہ یہاں عدل کو مقدم کر دیا اور ان میں شفاعت مقدم تھی اس لئے کہ بعض دنیا کو چھوڑ نہ سکے پہلے سپارش سے کام لیا جب اس سے کام نہ چلا تو بدلہ دینے کو ہوئے۔دوسروں نے مال کا دینا مقدم کیا جب کام نہ چلا تو لگے سپارش کرانے۔البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخه ۲۱ / نومبر ۱۹۱۲ء صفحه ۷۸) أوليكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ پھر مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا ذکر فرمایا ہے اور ان کا وعید بیان کیا۔وَ لَهُم عَذَابٌ عَظِيمٌ پھر ضَالِين کا ذکر کیا۔أُولَبِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّللَةَ ان کی سزا ہے۔فَمَا رَبِحَتْ تجارتهم رکوع سوم میں فرمایا ہے کہ قرآن کریم پر عمل کرنے سے منعم علیہم بن جاؤ گے اور اس کے خلاف کرنے کی سزا دوزخ کی آگ ہے۔وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ پھر ضَالّين کا ذکر فرمایا کہ مَا يُضِلُّ بِهَ إِلَّا الْفُسِقِینَ۔رکوع چہارم میں ایک منعم علیہ ( آدم ) ایک مغضوب و ضال شیطان کا قصہ بیان کیا۔پھر رکوع ۵ میں بنی اسرائیل کا ذکر شروع کیا اور اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ سے ظاہر کر دیا کہ وہ ایک منعم علیہ قوم تھی۔پھر قسم قسم کے انعاموں کا جو ان پر ہوئے مذکور ہے اور ساتھ ہی ان اسباب کا ذکر فرماتا ہے جن سے یہی منعم علیہ قوم مغضوب علیہ بنی۔از آن جملہ گائے کی پرستش ، موسیٰ کی فرمانبرداری چھوڑ کر زمیندارہ پسند کرنا۔چھوٹے چھوٹے گناہوں کی پرواہ نہ کرنا۔یہاں تک کہ کفر و قتل انبیاء تک نوبت پہنچ گئی۔پھر سلیمان کے زمانہ میں امن و آسودگی میں بجائے شکر الہی کے بغاوت و عملیات و خفیہ کمیٹیوں کی طرف مائل ہونا۔مسیح کا انکار۔پھر اس رسول علیہ السلام کا انکار۔اب اس رکوع ۱۵ میں یہ قصہ ختم ہوتا ہے۔فرماتا ہے کہ او بہادر سپاہی کی اولاد! میں نے تمہیں ہم عصر لوگوں پر بہت سی بزرگیاں دیں، پر تم نے اس بزرگ کی شان کو قائم نہ رکھنا چاہا۔تم اس دن سے ڈرو جب کہ کوئی جی کسی کے کام نہ آئے گا چنانچہ بنی قریظہ قتل ہوئے۔سعد بن معاذ کو انہوں نے خیر خواہ سمجھا پر اس نے بھی ان کے خلاف ہی رائے دی۔بنی نضیر کا تعلق عبد اللہ بن ابی سے تھا اس نے کہا۔یہی۔وَ اِن