حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 334
حقائق الفرقان ۳۳۴ سُورَةُ الْبَقَرَة ق ۱۱۶ تا ۱۱۸ - وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ، فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ - وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبُحْنَةَ بَلْ لَّهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ كُلُّ لَهُ قُنِتُونَ - بَدِيعُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ - ترجمہ۔اور مشرق اور مغرب تو اللہ ہی کا ہے تم جس طرف منہ پھیر وادھر اللہ ہی کی توجہ کا لحاظ رکھو بے شک اللہ بڑی وسعت دینے والا بڑا جاننے والا ہے۔اور کسی قوم نے کہا کہ اللہ نے ایک بیٹا اختیار کیا یہ بات اللہ کے شان کے لائق نہیں۔پاک ذات ہے وہ ، ہاں آسمان وزمین میں جو کچھ ہے اُسی کا مال ہے۔وہ سب کے سب اللہ کے فرماں بردار ہیں۔وہ آسمان وزمین کو ( بغیر مادہ اور نمونہ کے ) بنانے والا ہے اور وہ جب کسی چیز کو ظاہر کرنا چاہتا ہے تو سوائے اس کے نہیں اس کو کہہ دیتا ہے کہ ہو تو وہ ہو جاتی ہے۔تفسیر۔اور اللہ کی ہے مشرق اور مغرب۔سوجس طرف تم منہ کر دو ہاں ہی متوجہ ہے اللہ۔فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب۔حصہ دوم صفحہ ۲۸۶ حاشیہ) فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ الله - جدھر تم تو جہ کرو گے ادھر ہی خدا کی بھی تو جہ ہوگی کیونکہ مشرق و مغرب اسی کا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۹ ،۲۰ مؤرخه ۴ و ۱۱/ مارچ ۱۹۰۹ء صفحه ۲۰) لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ۔سارا جہان خدا کا ہی ہے جس طرف تم توجہ کر و خدا کی فتح ونصرت تمہارے ساتھ ہوگی۔آئین۔ظرف مکان بھی ہے اور ظرف زمان بھی ہے۔اس میں سارا جہان مخاطب ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور جس وقت توجہ کرو پس اسی طرف توجہ ہے اللہ کی۔فی الواقع جدھر صحابہ متوجہ ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کی توجہ کو مثمر ثمرات بنایا۔قَالُوا اتَّخَذَ الله۔بیٹا ہونا سبحان کے بالکل خلاف ہے۔عیسائیوں نے ایک مجلس کا نام تقدیس رکھا ہے اور اس میں بیٹا ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔اس لئے فرمایا کہ یہ نقد میں نہیں۔