حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 333 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 333

حقائق الفرقان ۳۳۳ سُورَةُ الْبَقَرَة ہے تو وہ ان لوگوں کو جو اس کے ہم خیال نہیں مسجد سے روک دیتا ہے اور یہ نہیں سمجھتا کہ آخر وہ بھی خدا ہی کا نام لیتا ہے۔ایسا کر کے وہ اس مسجد کو آباد نہیں بلکہ ویران کرنا چاہتا ہے۔بارا ہو میں صدی تک اسلام کی مسجد میں الگ نہ تھیں بلکہ اس کے بعد سنی اور شیعہ کی مساجد الگ ہوئیں پھر وہابیوں اور غیر وہابیوں کی اور اب تو کوئی حساب ہی نہیں۔ان لوگوں کو یہ شرم نہ آئی کہ مکہ کی مسجد تو ایک ہی ہے اور مدینہ کی بھی ایک ہے۔قرآن بھی ایک ، نبی بھی ایک، اللہ بھی ایک۔پھر ہم کیوں ایسا تفرقہ ڈالتے ہیں۔ان کو چاہیئے کہ مسجدوں میں خوف الہی سے بھرے داخل ہوتے۔صرف اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مسجد میں آئے اور جماعت ہو رہی ہوتو وقار اور سکینت سے آئے اور ادب کرے جیسا کہ کسی شہنشاہ کے دربار میں داخل ہوتا ہے لیکن وہ اگر خوف الہی سے کام نہیں لیتے اور مسجدوں میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں اُن کے لئے دُنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے۔یاد رکھو کسی کو مسجد سے روکنا بڑا بھاری ظلم ہے۔اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے طرز عمل کو دیکھو کہ نصرانیوں کو اپنی مسجد مبارک میں گر جا کر نے کی اجازت دے دی۔صحابہ کرام کو تسلی دیتا ہے کہ اگر تمہیں مسجد میں داخل ہونے سے روکتا ہے تو کچھ غم نہ کرو میں تمہارا حامی ہوں جس طرف تم گھوڑوں کی باگیں اُٹھاؤ گے اور منہ کرو گے اسی طرف میری بھی تو جہ ہے چنانچہ جدھر صحابہ نے رخ کیا فتح و ظفر استقبال کو آئی۔یہ بڑا اعلیٰ نسخہ ہے کہ کسی کو عبادت گاہ سے نہ روکو اور کسی مخلوق کی تحقیر نہ کرو۔مگر اس سے یہ مطلب نہیں کہ دنیا میں امر بالمعروف نہ کرو۔ہر گز نہیں۔بلکہ صرف حُسنِ سلوک اور سلامت روی سے پیش آؤ۔جو کسی کی غلطی ہو اس کی فوراً تر دید کرو۔مثلاً عیسائی ہیں جب وہ کہیں کہ خدا کا بیٹا ہے تو ان کو کہو خدا تعالیٰ اس قسم کی احتیاج سے پاک ہے۔جب آسمان وزمین میں سب کچھ اسی کا ہے اور سب اس کے فرماں بردار ہیں تو اس کو بیٹے کی کیا ضرورت ہے۔البدر جلد ۸ نمبر ۱۷ مؤرخہ ۱۸؍ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۲)