حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 330
حقائق الفرقان ۳۳۰ سُورَةُ الْبَقَرَة عیب کے اور یہ عیب جو تم نے نکالا یہ بھی ٹھیک نہیں کیونکہ حدیث میں جَر ثَوْبَهُ خُيَلا آیا ہے اور یہاں اس بات کا وہم تک نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قَالَتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصْرى عَلَى شَيْءٍ وَ قَالَتِ النَّصْرِى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَبَ كَذلِكَ قَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ - گویا اس طرح کہنا لا يَعْلَم لوگوں کا دستور ہے۔عیب شماری کی طرف ہر وقت متوجہ رہنا ٹھیک نہیں۔کچھ اپنی اصلاح بھی چاہیے۔ہمیشہ کسی دوسرے کی عیب چینی سے پہلے اپنی گذشتہ عمر پر نگاہ ڈالو کہ ہم نے اتباع رسول پر کہاں تک قدم ما را اور اپنی زندگی میں کتنی تبدیلی کی ہے۔ایک عیب کی وجہ سے ہم کسی شخص کو برا کہہ رہے ہیں۔کیا ہم میں بھی کوئی عیب ہے یا نہیں اور اگر اس کی بجائے ہم میں یہ عیب ہوتا اور ہماری کوئی اس طرح پر غیبت کرتا تو ہمیں برا معلوم ہوتا یا نہیں۔۔۔عیب شماری سے کوئی نیک نتیجہ نہیں نکل سکتا۔کسی کا عیب بیان کیا اور اُس نے سن لیا۔وہ بغض و کینہ میں اور بھی بڑھ گیا پس کیا فائدہ ہوا؟ بعض لوگ بہت نیک ہوتے ہیں اور نیکی کے جوش میں سخت گیر ہو جاتے ہیں اور امر بالمعروف ایسی طرز میں کرتے ہیں کہ گناہ کرنے والا پہلے تو گناہ کو گناہ سمجھ کر کرتا تھا پھر جھنجھلا کر کہہ دیتا ہے کہ جاؤ ہم یونہی کریں گے۔البدر جلد ۸ نمبر ۱۴ مؤرخه ۲۸ جنوری ۱۹۰۹ صفحه ۱۰،۹) جب کوئی کسی کا دشمن ہو جاتا ہے تو اس کی کسی خوبی کا قائل نہیں رہتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب کوئی ایسی چیز ہوتی ہے کہ جس میں کچھ بھی خوبی اور کوئی بھی فائدہ نہ ہو تو ہم اس کو دنیا میں رہنے نہیں دیتے جیسے فرمایا - أَمَا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَنكُتُ فِي الْأَرْضِ - الرعد : ۱۸) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود کا نصاری کو یہ کہنا کہ یہ کچھ بھی نہیں اور نصاری کا یہود کو یہ کہنا یہ کچھ نہیں عداوت پر مبنی ہے۔اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یہ یہود و نصاری ہی سے متعلق نہیں بلکہ فرمایا۔كَذلِكَ قَالَ لے جس نے اپنا کپڑا (ازار) گھسیٹا تکبر کرتے ہوئے۔(ناشر) پر لوگوں کو نفع دینے والا وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔(ناشر)