حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 331 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 331

حقائق الفرقان ۳۳۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة الَّذِینَ یعنی جو کوئی بھی ایسا کہے وہ سب اسی بنا پر مبنی ہے۔پھر قرآن میں سب سے بڑا سبب عداوت كا فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكروا به (الانعام : ۴۵) لکھا ہے یعنی جب لوگ قرآن کریم یا کتاب اللہ کو چھوڑ دیتے ہیں تو ان میں بغض و عداوت پڑ جاتی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آجکل جو مسلمانوں میں باہم ناچاقی کی وبا پھیلی ہوئی ہے تو اس کا سبب قرآن کو پس پشت ڈال دینا ہے۔مسلمانوں میں پہلے یہ وبا شروع ہوئی تو جبر و قدر کا جھگڑا شروع ہوا پھر خوارج کا پھر شیعوں کا۔میں کہتا ہوں کہ انہوں نے قرآن کریم کو چھوڑ کر جبر و قدر کو کیوں چھیڑا۔میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کسی کو ر ڈی نہیں سمجھتا۔اس جھگڑے کو بھی مفید ہی سمجھتا ہوں۔میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھ کو ہر گز کسی سے بھی بغض نہیں حتی کہ شیطان سے بھی نہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ نے اس کو بھی کسی غرض سے ہی پیدا کیا ہے۔بھوپال میں میرے استاد مولوی عبد القیوم صاحب تھے۔جب میں ان سے رخصت ہونے لگا تو میں نے کہا کہ مجھے کوئی ایسی بات بتلائیے کہ جس سے میں ہمیشہ ہی خوش رہوں۔فرمایا کہ تم اپنے آپ کو خدا اور رسول نہ سمجھنا۔میں نے عرض کیا کہ بھلا میں اپنے آپ کو خدا اور رسول کیسے سمجھ سکتا ہوں؟ انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ تم خدا کس کو کہتے ہو؟ میں نے کہا۔فَقَالُ لِمَا يُرِيدُ (هود: ۱۰۸) یعنی خدا وہ ہے کہ جو چاہے سو کر گزرے۔انہوں نے فرمایا کہ بس اگر تمہاری خواہش پوری نہ ہو تو اپنے نفس کو کہنا کہ میاں تم کوئی خدا ہو؟ اس نکتہ سے مجھے اب تک فائدہ پہنچا ہے اور میں بہت راحت و آرام میں رہتا ہوں۔دوسری بات یہ کہ رسول نہ بننا۔میں نے کہا وہ کیسے؟ فرمایا کہ رسول کے پاس خدا سے حکم آتا ہے۔اس کو خوف ہوتا ہے کہ اگر لوگ میری باتوں کو نہ مانیں گے تو دوزخ میں جائیں گے اس لئے وہ کڑھتا ہے مگر جو تمہارا فتوی نہ مانے تو وہ تو دوزخ میں نہیں جا سکتا۔اس لئے تم اس کا بھی کبھی رنج نہ کرنا کہ فلاں شخص نے ہمارا کہنا کیوں نہ مانا۔ہمارے شیخ المشائخ شاہ ولی اللہ صاحب کے والد ماجد کو ایک مرتبہ الہام ہوا کہ اس وقت