حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 324
حقائق الفرقان ۳۲۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة قرآن شریف اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عملدرآمد سے کرو۔اور پھر تمام امت میں مشتر کہ رنگ کو دیکھ لو۔پھر احادیث صحیحہ کو پڑھو۔ایک بڑی گندی قوم گزری ہے جو احادیث کا انکار کرتی ہے۔ایک نے یہ گندا لفظ کل کہا اور بڑی جرات سے کہا کہ روات احادیث شیاطین ہیں وہ نہیں مرے گا جب تک خود شیطان نہ بن لے۔وہ لوگ بڑے ہی محروم ہیں جو اس علم حدیث سے محروم ہیں میں بچپن سے ۷۵۔۷۶ سال کی عمر تک پہنچا ہوں اور میرا یہ تجربہ ہے کہ علم حدیث کے بغیر دین آتا ہی نہیں۔تم ہی بتاؤ جس نے علم حدیث پڑھا ہے اس کی گواہی حدیث کے متعلق مانی چاہیے یا اس کی جس نے یہ علم پڑھا ہی نہیں۔پھر ایک وہ طریقہ قرآن کریم کے فہم کا ہے جو میرے ہادی نے مجھے سمجھایا ہے۔میں نے ایک بار حضرت مرزا صاحب کے حضور عرض کیا کہ آپ کے طریق میں مجاہدات کیا ہیں؟ فرمایا۔اگر شوق ہے فصل الخطاب کے لکھنے کی وجہ ان مجاہدات کا جو ہمارے طریق میں ہیں تو ایک کتاب عیسائی مذہب کے رڈ میں لکھو۔میں نے جب اس کتاب کے لکھنے کا ارادہ کر لیا تو ایک مسیحی کو مقر ر کیا کہ وہ جو اعتراض قرآن شریف پر رکھتا ہے لکھے۔اس نے ایک ہزار کے قریب اعتراض لکھ کر بھیج دیا۔میں نے اس کے اعتراضوں کو پڑھ کر ساری بائیبل کو کئی مرتبہ پڑھا اور نوٹ کرتا گیا۔(وہ بائیبل اب کسی نے چرالی ہے ) میں نے کل اعتراضات کے الزامی جواب نوٹ کر لئے اور پھر حقیقی جوابات کی طرف متوجہ ہوا تو بعض اعتراضوں کے جواب سمجھ میں نہ آئے۔میں نے مرزا صاحب سے عرض کیا کہ بعض اعتراضوں کے جواب حقیقی نہیں ہو سکتے۔یا تو ان اعتراضات کا ذکر ہی نہ کریں یا الزامی جواب دے کر خاموش ہو جائیں۔میرا ایک دوست تھا اللهم اغفرہ وارحمه مولوی عبد الکریم نام ، انہوں نے کہا کہ الزامی جواب پسند نہیں۔میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا۔آپ کی عادت تھی کہ ہنستے ہنتے کپڑا منہ پر رکھ لیتے تھے۔یہ سن کر فرمایا کہ بڑی بے انصافی کی بات ہے کہ جس بات کو آپ کا قلب نہیں مانتاد شمن کو وہ آپ کیونکر منوائیں گے۔اس بات کو سن کر میرا اعتقاد آپ کی نسبت بہت بڑھ