حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 322
حقائق الفرقان ۳۲۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة تب بڑے جوش سے کہا کہ تم نے ابو مسلم اصفہانی کی کتاب پڑھی ہے وہ احمق بھی قائل نہ تھا میں نے کہا پھر تو ہم دو ہو گئے۔پھر اس نے کہا کہ سید احمد کو جانتے ہو۔مراد آباد میں صدرالصدور ہے۔میں نے جواب دیا کہ میں رام پور لکھنو اور بھوپال کے عالموں کو جانتا ہوں ان کو نہیں جانتا۔اس پر کہا کہ وہ بھی قائل نہیں۔تب میں نے کہا بہت اچھا پھر ہم اب تین ہو گئے۔کہنے لگا کہ یہ سب بدعتی ہیں۔امام شوکانی نے لکھا ہے کہ جو نسخ کا قائل نہیں وہ بدعتی ہے۔میں نے کہا تم دو ہو گئے۔میں ناسخ و منسوخ کا ایک آسان فیصلہ آپ کو بتاتا ہوں تم کوئی آیت پڑھ دو جو منسوخ ہو اس کے ساتھ ہی میرے دل میں خیال آیا کہ اگر یہ ان پانچ آیتوں میں سے کوئی پڑھ دے تو کیا جواب دوں۔خدائے تعالیٰ ہی سمجھائے تو بات بنے۔اس نے ایک آیت پڑھ دی میں نے کہا کہ فلاں کتاب نے جس کے تم بھی قائل ہو اس کا جواب دے دیا ہے۔کہنے لگا ہاں پھر میں نے کہا اور پڑھو تو خاموش ہی ہو گیا۔علماء کو یہ وہم رہتا ہے ایسانہ ہو ہتک ہو۔اس لئے اس نے یہی غنیمت سمجھا کہ چپ رہے۔بھیرہ میں ایک شخص نے نسخ کا مسئلہ پوچھا اور میں نے اپنے فہم کے مناسب جواب دیا اور کہا کہ پانچ کے متعلق میری تحقیق نہیں تو اس دوست نے کہا کہ اب ان پانچ پر نظر ڈال لیں۔میں نے تفسیر کبیر رازی میں بہ تفصیل ان مقامات کو دیکھا تو تین مقام مجھے خوب سمجھ میں آگئے اور دو سمجھ میں نہ آئیں۔تفسیر کبیر میں اتنا تو لکھا ہے کہ شدت اور خفت کا فرق ہو گیا ہے۔غرض میں ان کتابوں کو پڑھتا ہوں مگر تعاون على البر کے لئے نہ اس محبت اور جوش سے جو مجھے پیارے کی پیاری کتاب سے ہے۔پھر میں ایک مرتبہ ریل میں بیٹھا ہوا ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔جیسے بجلی کوند جاتی ہے۔میں نے پڑھا کہ فلاں آیت منسوخ نہیں ہے۔میں بڑا خوش ہوا کہ اب تو چار مل گئیں صرف ایک ہی رہ گئی۔بڑی بڑی کتابوں کا تو کیا ذکر میں ٹھٹ بھیوں کی بھی پڑھ لیتا ہوں۔مگر اسی غرض تعاون علی البر کے لئے۔اس طرح پر ایک میں وہ پانچویں بھی مل گئی اور اس طرح پر خدا کے فضل سے مسئلہ ناسخ و منسوخ حل ہو گیا۔الحکم جلد ۱۶ نمبر ۲ مورخه ۱۴ جنوری ۱۹۱۲ صفحه ۵،۴) أَقِيمُوا الصلوۃ میں تعظیم الہی ہے اور زکوۃ میں مخلوق سے ہمدردی ہے۔جو کچھ کرو گے۔اللہ