حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 319 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 319

حقائق الفرقان ۳۱۹ سُورَةُ الْبَقَرَة کی شرط کا ایزاد کرنا حالانکہ قرآن مطلق ہے۔ مغمی علیہ سے اعمال حج دوسرا ادا کر دے اسے جائز قرار دینا حالانکہ صوم عن المیت میں ان لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَٹی کا عذر ہے۔ عاقلہ پر دیت کا حکم لگانا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخرى ما خلاف بجالانا ۔ نہایت ہی ضعیف حدیث سے نماز میں ہنس پڑنے کو ناقض وضو جانا اور اونٹ کے گوشت کھانے کو ناقض نہ ماننا۔ ضعیف خبر سے غسل جنابت میں مضمضہ و استنشاق کو فرض کر دینا با اینکہ وضو میں مضمضہ و استنشاق کی فرضیت سے انکار ہے۔ موزہ پر مسح کرنے میں جواز کا فتوای اینکه عمامہ پر مسح سے انکار ہے۔ اور حدیثیں دونوں کی مساوی ہیں اور ایسی ہی صد ہا جگہ احادیث سے قرآن پر ایزاد مانا اور کہیں انکار کرنا۔ اور مقدام بن معدیکرب کی اس حدیث پر خیال نہ کیا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الَّا إِنِّي أُوتِيْتُ رِجُلُ الْقُرْآنِ وَمِثْلَهُ مَعَهُ أَلَا يُوْشِكُ رَجُلٌ شَبْعَانَ عَلَى آرِيكَتِهِ يَقُولُ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْقُرْآنِ ۔۔۔ أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمُ الْحِجَارُ الْأَهْلِي وَلَا كُلَّ ذِي تَابٍ مِنَ السَّبْعِ وَلَالْفُطَةُ مُعَاهَ ۔۔۔ ( خطوط جواب شیعہ ورد نسخ - تصانیف حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۶۷ تا ۸۲ ) مَا نَنْسَحُ مِنْ آيَةٍ ۔۔ الخ ( البقرة : ۱۰۷) اگر مٹا دیں ہم کوئی بھی نشان یا اسے دنیا سے بھلا ہی دیں تو لاتے ہیں ہم بہتر اس سے یا اس کی برابر ۔ کیا معنی؟ اگر ہم کوئی نشان کسی طرح کا ہوا گر ہم مٹادیں اور مٹا کر ایسا کر دیں کہ وہ بھول ہی جاوے تو ہم اس سے بہتر لاتے ہیں۔ دیکھو ہزاروں اشیاء دنیا سے مٹیں اور بھلائی گئیں مگر موجودہ وقت میں اللہ نے اس سے بہتر موجود کر دیں۔ یہی حال شرائع سابقہ کا بھی ہوا۔ فقط الحکم جلد ۵ نمبر ۳۳ مورخه ۱۰ استمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۱۱) ایک زمانہ مجھ پر ایسا بھی گزرا ہے کہ ایک تفسیر کے شوق میں میں بمبئی گیا اور ایک دوست سے لے اور یہ کہ آدمی کو وہی ملے گا جو اس نے عمل کیا ۔ ۲۔ اور نہیں اٹھائے گا بوجھ کوئی کسی کا۔ سے سنو مجھے قرآن اور اس کی مثل ( کلام ) اُس کے ساتھ دیا گیا ہے۔ سنوقریب ہے کہ کوئی شخص : ں جو سیر ہو اپنے تخت پر بیٹھے ہوئے کہے کہ تم پر یہ قرآن پکڑ نالازم ہے۔ سنو تمہارے لئے پالتو گدھا حلال نہیں اور نہ کوئی کچلیوں والا درندہ اور معاہد کی گری پڑی چیز (ناشر)