حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 313
حقائق الفرقان ۳۱۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة فقرہ ہفتم۔بعض صحابہ اور سلف سے تقید اور تخصیص اور ابطال وغیرہ کونسخ کہنا ثابت ہے الا اقول تو ان کے اور ساتھ والوں نے نسخ کے ایسے عام معنے نہیں لئے۔دوم۔اگر نسخ تغیر کہتے تھے تو ان کے یہاں ایسے معنے کی نسخ قرآن میں آجاوے۔اخبار سے ممنوع نہ تھی۔ہمارے صاحبان نسخ کے معنوں میں ان کا محاورہ لیتے ہیں اور پھرسمن ثابتہ ہے۔قرآن کی یہ نسخ تجویز نہیں کرتے۔عملدرآمد میں اس اصطلاحی نسخ کو نسخ بمعنے رفع الحکم کا مرتبہ دے رکھا ہے۔فقره پشتم۔ماننسخ کا جملہ جملہ شرطیہ ہے اور شرط کا وجو دضرور نہیں ہوتا۔دیکھو إن كَانَ لِلرَّحْلَن وَلَدٌ (الزخرف: ۸۲) والی آیت پس آیت ماننسخ سے مطلق نسخ کا وقوع بھی ثابت نہیں ہوسکتا۔قرآن میں آیات منسوخہ کا موجود ہونا اس سے کیونکر ثابت ہوسکتا ہے۔یادرکھو میں مطلق وقوع نسخ کا انکار نہیں کرتا بلکہ کہتا ہوں کہ قرآن اور صحیحین اور ترمذی میں بالا تفاق منسوخ کوئی حکم نہیں ( ترمذی میں جمع صلواتیں ظہرین و مغر بین اور قتل شارب کی حدیث بھی منسوخ نہیں تفصیل اُس کی دراسات وغیرہ میں موجود ہے ) فقرہ نہم:۔میں نے بہت ایسے لوگ دیکھے جن کا یہ ڈھنگ ہے کہ جب دو بظاہر متعارض حکموں کو دیکھا اور تطبیق نہ آئی لا اعلم کہنے سے شرم کھا کر ایک میں نسخ کا دعوی کر دیا۔یا جب کوئی نص اپنے فتوے کے خلاف سنی اول تو لگے اس میں تو جیہات جمانے۔جب یہ کوشش کارگر نہ ہوئی جھٹ دعوئی کر دیا کہ ان میں سے فلاں حکم اجماع کے خلاف ہے۔جب اجماع کی غلطی معلوم ہوئی تو اجماع کو مقید کردیا اور کہ دیا کہ یہ اجماع اکثر کے اعتبار سے ہے۔جب اس کو بھی کسی نے خلاف ثابت کیا تو نسخ کا دعوی کر دیا۔حالانکہ بظاہر متعارض حکموں میں ایک کو عزیمت پر محمول کر لینے اور اباحت اصلیہ کو عارضی حرمت پر ترجیح کا موجب جان لینے اور شریعت کو اسباب اور موانع کا مبین مان لینے سے قریباً کل تعارض دفع ہو سکتے ہیں۔یہ عجیب قاعدہ تفصیل طلب ہے۔الا اس خط میں گنجائش نہیں چند مثالیں سن رکھو۔میں ذکر سے وضو کرنا۔یا عدم انزال میں غسل کر لینا۔ایسا ہی ایک مومن صابر کا دس کفار کا مقابلہ کرنا اور رسول سے گوشہ کرنے میں صدقہ دینا عزیمت ہے اور یہ کام نہ کر نا رخصت۔وتر کی ایک