حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 314 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 314

حقائق الفرقان ۳۱۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة یا تین یا پانچ یا سات یا نور کعتیں باختلاف انواع سب درست ہیں اور یہ اختلاف ایسا ہے جیسے نماز میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وبارک وسلم نے کوئی سورۃ پڑھی کبھی کوئی۔خرگوش کے استعمال میں اگر کوئی کراہت کی دلیل پیش کرے ( گو دلائل پیش شدہ صحیح نہیں ہیں ) تو اس کا کھانے والا اباحت اصلی کو بعد میں تسلیم تعارض مرجح کہہ سکتا ہے۔مومن کا عمد اقتل ابدی سزا کا سبب ہے اور قاتل کا سچا ایمان اور رحمت الہیہ اور شفاعت شافعین بلکہ تو بہ وغیرہ اس ابدی سزا کے مانع ہیں اور تجاذب کی حالت میں قوالی کا مؤثر ہونا ظاہر ہے۔فقرہ دہم۔روز مرہ کے مسائل میں رفع یدین اور فاتحہ کا مسئلہ لو۔جناب شیخ عبدالحق دہلوی سفر السعادت کی شرح میں فرماتے ہیں۔علماء مذہب ما این مقدار اکتفا نمی کنند وگویند که حکم رفع (رفع يدين عند الركوع والرفع منه والرفع ابتداء مر الثالثه) منسوخ است و چون ابن عمر را که راوی حدیث رفع است دیدند که بعد رسول اللہ صلعم عمل بخلاف آں کردہ ظاہر شد که عمل رفع منسوخ است و از ابن همام نقل فرموده در نماز ابتدا حال اقوال وافعال از جنس این رفع (رفع یدین در سجدتین ) مباح بوده که منسوخ شده است پس دور نیست که این نیز از این قبیل باشد و مشمول نسخ بود - انتھی۔شیخ نے نسخ کا مدار اؤل تو ابن عمر کے نہ کرنے پر رکھا۔دوم اس پر کہ جب سجدے کے رفع یدین اجماعاً منسوخ ہے تو رکوع کو جاتے اور اٹھتے اور تیسری رکعت کی رفع بھی منسوخ ہوگی اور یہ دونوں باتیں تعجب انگیز ہیں۔اول تو اس لئے کہ ابن عمر ا ہمارے مسلک کے لوگ صرف اسی تعداد پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ رفع کا حکم (یعنی رفع یدین رکوع کے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت اور تیسری رکعت کے شروع میں کرنا ) منسوخ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جو کہ رفع یدین والی حدیث کے راوی ہیں ان کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد دیکھا گیا کہ انہوں نے نماز میں رفع یدین نہیں کیا اور ان کا یہ مل ظاہر کرتا ہے کہ رفع یدین کا حکم منسوخ ہو چکا ہے اور ابن ہمام سے روایت ہے کہ ابتدا میں نماز میں رفع یدین کی طرح کے اعمال ( یعنی : سجدوں میں رفع ) جائز تھے جو بعد میں منسوخ کر دیئے گئے پس بعید نہیں ہے کہ یہ حکم (یعنی رفع یدین رکوع کے وقت اور رکوع سے اُٹھتے وقت اور تیسری رکعت کے شروع میں کرنا) اسی طرح کے احکام میں سے ہو جو منسوخ ہو چکے ہیں۔