حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 310
حقائق الفرقان ۳۱۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة بالاية بعدھا۔میں کہتا ہوں ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہیں۔اوّل تو اس لئے پہلی آیت شرطیہ جملہ ہے امر نہیں۔پس جو کوئی آیت ان يكُن منکم کا مخاطب ہے اس وقت اس کے صابر دس گنے دشمنوں کو کافی تھے۔جو لوگ الآن کے وقت نکلے اس مجموعہ کے صابر دو چند کے مقابلہ میں غالب ہو سکتے تھے۔اگر یہ پچھلے وہی پہلے ہوں تو بھی مختلف اوقات میں انسانی حالت کی تبدیل کوئی تعجب انگیز نہیں۔اور اصل بات یہ ہے کہ جنگ بدر پہلی جنگ ہے جس میں صحابہ کرام کو عمائد مکہ اور صنادید قریش سے مقابلہ کا اتفاق پڑا تو اس پہلی جنگ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آئندہ تو تم کو اگر تم صابر ہوئے تو دس کے ساتھ۔ہیں کو دوسو کے ساتھ۔سو کو ہزار کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے گا اور اب تو اس پہلی بار میں اللہ نے تخفیف کی تمہارا مقابلہ اگر دو چند سے ہوا تو کامیاب رہو گے۔الآن اور عَلِمَ أَنَّ فِيكُم ضعفا (الانفال: ۶۷) صاف تفرقہ کی دلیل ہے۔- 66 -" پندرہویں آیت۔اِنْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالاً " الح (التوبة: ٤١) - مَنْسُوخَةً بِأَيَةِ الْعُذْرِ وَهُوَ قَوْلُهُ لَيْسَ عَلَى الْأغْنى حَرج (النور: ۲۲) وقوله لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ " (التوبة: 9) فوز الکبیر میں کہا ہے خفافا کے معنے ہیں کہ نہایت تھوڑے جہاد کے سامان ( جیسے ایک سواری ایک نوکر اور معمولی زادراہ) سے بھی لڑائی کرو۔اور ثقالا کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے نوکر اور سواریاں اور زادراہ تمہارے پاس ہو۔سولہویں آیت: - " الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلا زَانِيَةٌ “ (النور: (٢) - منسوخة بقوله " وَ انْكِحُوا الايا فى مِنْكُمْ (النور: ۳۳) فوز الکبیر میں ہے امام احمد ظاہر آیت پر حکم کرتے تھے۔اور امام احمد کے سوا اور لوگوں نے کہا کہ کبیرہ کا مرتکب زانیہ ہی کا کفو ہے یا یہ کہ زانیہ کا نکاح پسند کرنا اچھی بات نہیں بلکہ آیت شریف میں محرم ذلك کا اشارہ زنا اور شرک کی طرف ہے پس نسخ نہ ہوئی یا لے اور جانا تھا کہ تم میں کمزوری ہے۔سے آیت انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا، منسوخ ہے آیت العذر سے اور وہ ہے لَيْسَ عَلَى الْأَعْلَى حَرَج اور آیت لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ - (ناشر) ۳ بدکار مرد بد کار عورت سے نکاح کرتا ہے۔کے اور جس کا خاوند نہ ہو تم میں سے اُس کا نکاح کر دو۔