حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 305
حقائق الفرقان ۳۰۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة وصیت میں اصلاح کی اور اس میں ایما ہے کہ اصلاح کے وقت غلطی بھی ہو جاتی ہے الا ان کی معافی ہے۔دوسری وجہ آیت منسوخ نہ ہونے کی الوالدین اور الاقربین یہاں معرف باللام ہیں۔پس کہتے ہیں کہ یہاں خاص والدین اور اقارب کا ذکر ہے اور چونکہ آیت يُوصِيكُمُ اللهُ میں اکثر وارثوں کے حق بیان ہوچکے ہیں اور حدیث لا وصية لوارث میں وارثین کے حق میں وصیت کرنے کی ممانعت آچکی ہے اس لئے الو الدین اور الاقربین سے وہ ماں باپ اور رشتہ دار مراد ہیں جو وارث نہیں۔مثلاً کسی شخص کے ماں باپ غلام ہوں یا مورث کے قاتل ہوں یا کافر ہوں اور ایسے وہ اقارب ہوں جو محروم الارث ہوں پس آیت مخصوص البعض ہے۔اگر یہ تر ڈ دہو کہ یہ وصیت اکثر اہل اسلام میں فرض نہیں اور یہاں کتب کا لفظ فرضیت ظاہر کرتا ہے تو اس کا ازالہ یہ ہے کہ اول تو لمعروف کا لفظ ندب کے لئے ہے۔دوم ابن عباس حسن بصری مسروق طاؤس۔مسلم بن بیسار۔علاء بن زیاد کے نزدیک اس وصیت کا وجوب ثابت ہے۔اور پہلے معنے ہی کافی مان لو۔و دوسری آیت : - وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ (البقرة : ۱۸۵)۔قِيل مَنْسُوْخَةٌ بِقَوْلِهِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُبُهُ " ( البقرة : ١٨٦) وَقِيلَ مُحْكَمَةٌ وَلَا مُقَدَّرَةٌ قُلْتُ عِنْدِى وَجْهُ أَخَرُ وَهُوَ أَنَّ الْمَعْلَى وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَةُ الطَّعَامَ فِدْيَةٌ هِيَ طَعَامُ مَسْكِينَ فَأَضَمَّ قَبْلَ الذِكرِ لِأَنَّهُ مُتَقَدَّمَةٌ رُتْبَةً وَذِكْرُ الضَّمِيرِ لِأَنَّ الْمُرَادَ مِنَ الْفِدْيَةِ هُوَ الطَّعَامُ وَالْمُرَادُ مِنْهُ صَدَقَةُ الْفِطْرِ - لے وارث کے لئے وصیت نہیں۔سے اور جو طاقت رکھتے ہیں وہ کھانا بھی دیں۔سے تم میں سے جو شخص مقیم ہو یا اس مہینے کو پاوے (اس میں حاضر ہو) تو چاہئے کہ اس کے روزے رکھے۔(ناشر) کہ آیت وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ۔کہا گیا منسوخ ہے اللہ کے فرمان فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهر سے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت محکم ہے ( منسوخ نہیں) اور لا مقدر ہے۔میں کہتا ہوں کہ میرے نزدیک ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ آیت عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَ۔۔۔۔میں ضمیر طعام مسکین سے اضمار قبل الذکر ہے۔کیونکہ طعام مسکین کا ٹکڑا اگر چہ بعد میں آیا ہے لیکن مرتبہ میں مقدم ہے۔ضمیر کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ فدیہ سے مراد طعام ہی ہے اور اس سے مراد صدقہ فطر ہی ہے۔