حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 304
حقائق الفرقان ۳۰۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اس پر مؤلّف علا مہ کہتا ہے کہ یہ آیت آیت یوصیکم اللہ (النساء : ۱۲) سے منسوخ ہے اور لاوصيةلوارث کی حدیث اس نسخ کو ظاہر کرتی ہے۔فقیر کہتا ہے یہ آیت منسوخ نہیں کیونکہ کتب۔آہ۔کے معنے ہیں لکھی گئی تم پر جب آجاوے ایک کو تم میں سے موت۔اگر چھوڑے مال۔الوصیۃ ماں باپ اور نزدیکیوں کے لئے اور ظاہر ہے کہ جب موت حاضر ہوگئی تو آدمی مر گیا۔ان ترک کا لفظ وجود موت پر قرینہ ہے۔اس آیہ شریفہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص مال چھوڑ مرے تو اس کے حق میں کوئی وصیت لکھی گئی ہے۔جب ہم نے قرآن کریم میں جستجو کی تو اس میں پایا يُوصِيكُمُ اللهُ فِى اَوْلادِكُم آہ معلوم ہوا کہ والدین اور رشتہ داروں کے حق میں یہ وصیت الہیہ لکھی ہوئی ہے وَالْقُرْآنُ يُفَتِرُ بَعْضُهُ بَعْضًا اور اسی وصیت پر عمل کا کتب علیکم والی آیت میں حکم ہے۔پس یہ آیت كُتِبَ عَلَيْكُمْ اور آیت يُوصِيكُمُ اللهُ آپس میں متعارض نہ ہوئیں بلکہ ایک دوسرے کی جز ٹھہریں اور لاوَصِيَّةٌ لِوارِث والی حدیث بھی معارض نہ رہی کیونکہ بلحاظ حدیث یہ حکم ہے کہ يُوصِيكُمُ اللہ میں وارثوں کے حقوق مقرر ہو چکے ہیں۔اور شارع نے ان کے حصص بیان کر دیئے ہیں۔اب وارث کے لئے وصیت نہیں رہی۔ہاں وارثوں کے سوا اور لوگوں کے حق میں وصیت ہو تو ممنوع نہیں۔آگے کی آیت میں حکم ہے جس نے بدلا وصیت کو سننے کے بعد ضرور اس کا گناہ بدلنے والوں پر ہوا اور اللہ ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔کیوں نہ ہو خدائی وصیت کا بدلنا مسلمان کا کام نہیں) اور آیت فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا کا ترجمہ ہے جس کو ڈر ہو کہ کسی موصی نے بھی کی یا گناہ کیا پس اُس نے سنوار دیا تو اسے گناہ نہیں تحقیق اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ظاہر ہے جس موصی نے خدائی وصیت کے خلاف کیا اُس نے بے شک کبھی کی اس کے سنوارنے والے کو کوئی گناہ نہیں۔اور ہو سکتا ہے کہ موصی سے وہ وصیت والا مرد ہو جس نے ثلث سے زیادہ وصیت کی یا ثلث میں یا ثلث کے اندر کسی برے کام پر اور بری طرز پر روپیہ لگا دینے کی وصیت کی اور آیات يُوصِيكُمُ میں مِنْ بَعْدِ وَصِيَّة بدوں تقید مذکور ہے اس لئے یہاں بتادیا کہ بھی اور بدی کی سنوار معاف ہے اس سنوار نے پر کوئی جرم نہیں اگر اس نے اس موصی کی لے قرآن کا ایک حصہ دوسرے حصہ کی تفسیر کرتا ہے۔۲ وارث کے لئے وصیت نہیں ہے۔(ناشر)