حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 303 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 303

حقائق الفرقان ۳۰۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة آیتیں منسوخ مانی ہیں۔میں نے ان پانچ مقام کی تحقیق تفاسیر سے کی تو ان پانچ مقامات کا منسوخ ماننا نفس الامر کے مطابق نہ پایا۔فقرہ چہارم :- عزیز من ایمان اور انصاف کا مقتضی ہے۔اگر ہم دو احکام شرعیہ کو متعارض دیکھیں تو بحکم وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثيرا (النساء : ۸۳) کے ہم ضروریقین کریں کہ یہ تعارض ہمارے فہم کی غلطی ہے۔اگر تطبیق دو آیتوں یا حدیثوں کی ہمیں نہیں آئی تو اللہ کے ہزاروں ایسے بندے ہوں گے جو تطبیق دے سکتے ہوں گے۔ہم بڑے نادان ہیں اگر اپنی کمزوریوں کو نہیں سمجھتے۔بڑی غلطی پر ہیں اگر اس فیض الہی کے منتظر نہ ہیں جس کے ذریعہ تطبیق حاصل ہو۔بڑی ناامیدی ہے اگر قبض کی حالت میں بسط کا انتظار نہ ہو۔صاف دھوکہ ہے اگر فوق کل ذی علم علیم ہمیں بھول جائے۔فقره پنجم : فوز الکبیر میں لکھا ہے۔شیخ جلال الدین سیوطی در کتاب اتقان بعد ازاں که از بعض علماء آنچه مذکور شد به بسط لائق تقریر نمود و آنچه بر رائے متاخرین منسوخ است بر وفق ابن العربی محور کردہ قریب بست آیت شمرده - فقیر را در اکثر آن بست آیت نظر است - فلنورد کلامه مع التعقب۔فمن البقرة كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ (البقرة : ۱۸ - الْآيَةُ مَنْسُوْخَةٌ قِيْلَ بِآيَةٍ مَوَارِيكَ وَقِيلَ لِحَدِيْبِ لَا وَصِيَّةٌ لِوَارِثَ وَقِيلَ بِأَلا جُمَاعِ حَكَاهُ ابْنُ الْعَرَبِي - ا اگر وہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پایا جاتا۔۲۔شیخ جلال الدین سیوطی اپنی کتاب اتقان میں بعض علماء سے منسوب بات کا تذکرہ کرنے کے بعد اور اس (جس آیت کے نسخ کا تذکرہ ہے۔مترجم) کے بارہ میں تفصیل سے لکھا ہے کہ متاخرین کی رائے میں جو منسوخ ہے۔اور ابن العربی نے بھی جو آیات منسوخ شمار کی ہیں ان کی تعداد میں ہے، میری نظر میں ان کی تعداد میں سے زیادہ ہے۔(ناشر) سے پس اس کا کلام مؤقف مع التعقب ( یعنی اس مؤقف پر تبصرہ کے ساتھ ) پیش کرتے ہیں۔سورہ بقرہ میں ہے۔تم پر لازم کیا جاتا ہے جب سامنے آموجود ہو تم میں سے کسی کی موت اگر ( وہ مرنے والا ) چھوڑے کچھ مال ( تو چاہئے کہ ) کہے میرے ماں باپ اور رشتہ داروں کے لئے یہ آیت منسوخ ہے کہا گیا ہے کہ آیت مواریث سے اور کہا گیا کہ حدیث لا وَصِيَّةَ لِوَارِثِ سے اور کہا گیا کہ اجماع سے۔یہ ابن عربی نے حکایت کیا ہے۔