حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 290 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 290

حقائق الفرقان ۲۹۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ہے۔اس کی جڑ یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو مقدم کر لیتا ہے۔حضرت سلیمان کے عہد میں جب لوگوں کو امن حاصل ہوا اور مال ثروت کی فراوانی ہوئی تو ان میں نئی نئی تحریکیں ہونے لگیں۔آسمانی کتب کا جو مجموعہ ان کے پاس تھا اس سے طبیعت اکتا گئی تو کسی اور تعلیم کی خواہش ہوئی۔مگر وہ تعلیم ایسی تھی جو خدا سے دور پھینکے والی تھی۔نقش سلیمانی وغیرہ اسی تعلیم کی یادگار بعض مسلمانوں میں مروج ہے۔بنی اسرائیل نے جب خدا کی کتاب سے دل اُٹھایا تو ان لغو باتوں میں پڑ گئے جو بعض شیطانی اثروں کے لحاظ سے دلر با باتیں بن گئیں۔خدا تعالیٰ نے فرمایا یہ سب اس زمانہ کے شریروں کی کارروائی ہے۔سلیمان علیہ السّلام نے ان کو یہ تعلیم نہیں دی بلکہ از خود یہ باتیں انہوں نے گھڑ لیں اور ایسی دلر با باتوں کی اشاعت کی۔(البدر جلد ۸ نمبر ۱۵ مؤرخه ۴ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۳) انسان میں عجیب در عجیب خواہشیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔جب وہ بچہ ہوتا ہے پھر جب ہوش سنبھالتا ہے پھر جب جوان ہوتا ہے پھر جب بُری صحبتوں میں پھنستا ہے۔جب اچھی صحبتوں میں آتا ہے جب کامیاب زندگی بسر کرتا ہے جب ناکام ہوتا ہے تو اس کے حالات میں تغیر پیش آتے رہتے ہیں۔میں نے ایک خطرناک ڈاکو سے پوچھا کہ کبھی تمہارے دل نے ملامت کی ہے تو وہ کہنے لگا کہ تنہائی میں تو ضرور ضمیر ملامت کرتا ہے مگر جب ہماری چار یاری اکٹھی ہوتی ہے تو پھر کچھ یاد نہیں رہتا اور نہ یہ افعال بڑے لگتے ہیں یہ سب صحبتِ بد کا اثر ہے۔قرآن کریم میں كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ ل (التوبة: ١١٩) كا اسی واسطے حکم آیا ہے تا کہ انسان کی قوتیں نیکی کی طرف متوجہ رہیں اور نیک حالات میں نشو و نما پاتی رہیں۔غرض انسان کے دکھوں میں اور خیالات ہوتے ہیں سکھوں میں اور۔کامیاب ہو تو اور طریق ہوتا ہے۔ناکام ہو تو اور طرز۔طرح طرح کے منصوبے دل میں اٹھتے ہیں اور پھر ان کو پورا کرنے کے لئے وہ کسی کو محرم راز بناتے ہیں اور جب بہت سے ایسے محرم راز ہوتے ہیں تو پھر انجمنیں بن جاتی ہیں اللہ تعالیٰ نے اس سے روکا تو نہیں مگر یہ حکم ضرور دیا۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَ مَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِى إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ - إِنَّمَا النَّجْوَى مِنَ الشَّيْطَنِ لِيَحْزُنَ سیجوں کے ساتھ ہو جاؤ۔(ناشر)