حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 286
حقائق الفرقان ۲۸۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة سب جھوٹ ہے۔خدا نے اصل واقعہ سورۂ نمل رکوع ۸ میں بیان فرمایا ہے اور وہاں ظاہر کر دیا ہے کہ وہ ملکہ تو خود مسلمان ہوئی اور عذرخواہ ہو کر سلیمان کے دربار میں آئی۔قَالَتْ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي وَ أَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَنَ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (النمل: ۴۵) بعض وقت انبیاء کی نسبت جو الفاظ بولے جاتے ہیں ان سے ان کی تعریف مقصود نہیں ہوتی بلکہ صرف اس الزام کا اٹھانا ہوتا ہے جو ان پر لگایا گیا ہے یہاں مَا كَفَرَ اِسی لئے آیا ہے۔وَ لكِنَّ الشَّيطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السّحْرَ - وہ قومیں جو اللہ سے بہت دور تھیں ( الشَّيطِین کے یہاں یہی معنی ہیں ) جب وہ ملک سلیمان میں آئیں تو بنی اسرائیل کو اپنے ڈھب کا پا کر اپنی طرف متوجہ کر لیا اور انہیں سحر کی تعلیم شروع کر دی۔سحر کہتے ہیں دلر با باتوں کو خواہ از قسم عملیات ہوں یا شعبدہ بازی یا تخیر كُلّ مادى و لطف مَأْحَدُهُ " جس کی دریافت نہایت بار یک در باریک ہو۔إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسخَرًا (بخارى كتاب النکاح باب الخطبة) بھی آیا ہے اس لئے ناول بھی سحر میں داخل ہے۔بعض ناول ایسے ہوتے ہیں کہ انسان بغیر ختم کرنے کے ہاتھ سے چھوڑ ہی نہیں سکتا۔حضرت عمر سے کسی نے پوچھا تھا آپ کی طبیعت میں وہ تیزی نہیں رہی جو زمانہ جاہلیت میں تھی۔آپ نے جواب دیا۔تیزی تو وہی ہے مگر اب وہ کفار کے مقابلہ میں دکھائی جاتی ہے۔اسی طرح جن لوگوں کو لکھنا آتا ہے اور طبیعت موزوں واقع ہوئی ہے وہ ناول نویسی کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں۔ایسے شغلوں میں پڑ کر انسان اپنی کتاب سے بے خبر ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات یہ بھی نہیں سمجھا جاتا کہ میری روحانی حالت دن بدن بگڑ رہی ہے۔اس کے بعد ایک اور نصیحت فرمائی وہ یہ کہ انسان جب کسی کے ساتھ دشمنی کرتا ہے تو پھر اس دشمنی کے بڑھانے یا اس سے انتقام لینے کے لئے اپنے دشمن کی باتیں سنتا اور اس کے خلاف منصوبے کرتا ا بلقیس نے کہا اے میرے رب ! میں نے اپنا ہی نقصان کیا اور میں ایمان لائی۔اپنا معاملہ سپر دیبحق کر دیا سلیمان کے ساتھ ہو کر رب العالمین پر۔(ناشر) سے ہر وہ جس کا ماخذ نہایت باریک اور لطیف ہو ( وہ سحر ہے)۔(ناشر) سے یقینا بیان بھی سحر ہے۔(ناشر)