حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 285
حقائق الفرقان ۲۸۵ سُورَةُ الْبَقَرَة نے دیکھے ہیں کہ طلوع آفتاب سے لے کر غروب آفتاب تک تمام دن ٹکٹکی باندھ کر سورج کو دیکھتے ہی رہتے ہیں اور ایسے لوگوں میں ہندوؤں کو بھی دیکھا اور مسلمانوں کو بھی۔بعض شریف بھی ہیں۔ہمارے زمانہ میں بعض لوگ بڑے بزرگ کہلاتے ہیں اور وہ ان سب باتوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔مَا كَفَرَ سُلَيْمَن۔وہ لوگ جو ہم پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ حضرت مسیح کو کیا خصوصیت ہے وہ غور کریں کہ کیا نبی کا فر ہوا کرتے ہیں۔حضرت سلیمان کی نسبت یہودیوں میں ساڑھے نو قو میں یہ اعتقاد رکھتی ہیں کہ وہ کافر تھے۔اسی طرح عیسائی بھی کہتے ہیں کہ وہ ایک عورت کی محبت میں مشرک ہو گئے تھے۔خدائے تعالیٰ نے ان دونوں کی یہاں پر نفی فرمائی ہے۔البدر - کلام امیر حصہ دوم مورخه ۱۴ نومبر ۱۹۱۲ء صفحه ۷۰) جب آدمی میں آسائش آجاتی ہے تو وہ ہر نئی چیز میں بڑی دلچسپی لیتا ہے اور اس انہماک میں پھر جائز و ناجائز امرکو نہیں دیکھتا۔حتی کہ جس طرح شیعہ حضرت ابوبکر وعمر وعثمان کو برا کہتے ہیں اور خارجی اہل بیت کو۔اسی طرح وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرنے لگ جاتے ہیں مگر اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔شیعہ نے اس نکتہ چینی سے کیا فائدہ اُٹھایا۔اسی طرح حضرت داؤد کے بیٹے سلیمان برگزیدہ نبی تھے مگر ان لوگوں نے ان کی بھی عیب چینی شروع کر دی اور ان سے ایسی باتیں منسوب کیں جو ایک نبی کی شان سے بالکل بعید ہیں۔اس کی اصلیت یہ ہے کہ حضرت سلیمان کے عہد میں جب ان کو آسودگی ہوئی تو ہندوستان ، چین اور مصر سے نئے نئے آدمی وہاں جا آباد ہوئے اور ان لوگوں کی دلچپسی کے لئے عجیب عجیب فن پیش کئے جن میں وہ ایسے مشغول ہوئے کہ سب کچھ بھول گئے۔جیسا کہ انسان کی عادت ہے کہ جب ایک طرف متوجہ ہو تو دوسری طرف توجہ ضرور کم ہو جاتی ہے اسی طرح بنی اسرائیل کی خدا کی طرف توجہ کم ہو گئی اور ان بے ہودہ باتوں کی طرف بڑھ گئی اور ایسی بڑھی کہ اس کا اثر مسلمانوں تک بھی پہنچا نقش سلیمانی سحر ہاروت ماروت اور ایسی کتابیں اسی بیہودگی اور لغویت کی یادگار ہیں اور غضب یہ ہے کہ یہ کفر سلیمان پر تھوپا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سلیمان نے یہ کفر نہیں کیا اور ہر گز نہیں کیا۔آپ پر جو الزام لگائے گئے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ بلقیس نام ایک ملکہ پر عاشق ہو گئے اور پھر اس کو راضی کرنے کے لئے بت پرستی بھی کی۔یہ