حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 273 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 273

حقائق الفرقان ۲۷۳ سُورَةُ الْبَقَرَة ۹۲ - وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا أَنْزَلَ اللهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَ يَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنْبِيَاءَ اللهِ مِنْ قَبْلُ إِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ۔ ترجمہ ۔ اور جب ان کو کہا جاتا ہے کہ یہ کلام جو اللہ کی طرف سے اترا ہے اس کو مان لو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اُس کلام کو جو ہم پر اتر چکا ہے مانتے ہیں اور جو اس کے سوا ہے اس کے منکر ہیں۔ حالانکہ وہ ( قرآن ) حق اور حکمت سے بھرا ہوا (ہے) اُن کے پاس والے کلام کو سچا ٹھہراتا ہے ان سے کہہ دو (اچھا) جب تم (اپنی کتاب کو مانتے ہو تو پھر اللہ کے نبیوں کے درپے قتل کیوں ہور ہے ہواؤل سے ۔ تفسير - وَهُوَ الْحَقُّ ۔ اور وہ حق ہے اگر کتاب سچی بھی ہو اور سچ کی تصدیق کرنے والی بھی ہو تو پھر انسان کیوں نہ مانے؟ تَقْتُلُونَ - مقابلہ کرتے رہے ۔ اگر کہیں کہ وہ نبی نہ تھے تو اس کے جواب میں فرمایا کہ اچھا موسیٰ کو تو تم سب نبی مانتے ہو پس تم نے اس کی کیوں حکم عدولی کی ؟ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۲۵ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۶) فَلِمَ تَقْتُلُونَ ۔ دیکھومتی باب ۲۳ آیت ۳۷۔ ( تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۳۸) جہاں تک تاریخ پستہ دے سکتی ہے اللہ تعالیٰ کے مُرسل و مامور اپنے اعداء کے سامنے ناکام ہو کر نہیں مرتے اور نہ ہلاک ہوتے اور نہ مارے جاتے ہیں۔ مامورین کے ساتھ جدال و قتال ہوتا ہے۔ مگر یہ مقاتله و مقابلہ کرنے والے ناکام و نامراد مرتے ہیں اور مامور لوگ اللہ کے فضل سے مظفر و منصور اور کامیاب ہو کر دنیا سے جاتے ہیں۔ ( نورالدین بجواب ترک اسلام - کمپیوٹرائز ڈایڈیشن ۔ صفحہ ۲۲۷، ۲۲۸) وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا اَنْزَلَ اللهُ ۔ اور جب ان کو کہا جاوے کہ اس کتاب کو مانو جس کو اللہ نے اتارا ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اس کو مانتے ہیں جو ہمارے اوپر اتاری گئی حالانکہ وہ بھی ایک حق ہے۔