حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 272
حقائق الفرقان ۲۷۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ۹۱ - بِئْسَمَا اشْتَرُوا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللهُ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۚ فَبَاءُ وَ بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ وَ الكفِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ - ترجمہ۔ان لوگوں نے اپنی جانوں کو بڑے سودے میں ڈالا صرف اسی ضد پر اللہ کے اتارے ہوئے کلام سے منکر ہو گئے کہ اللہ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے ( محمد ) پر جس کو اس نے اپنے ارادہ میں فضل کے لائق پایا اپنا فضل نازل کیا (اسی بے جاضد کے سبب سے ) غضب پر غضب چڑھا لائے اور ان منکروں پر اب ذلت اور رسوائی کا عذاب ہوگا۔تفسیر - بِئْسَمَا اشْتَرُوا بِهِ أَنفُسَهُمْ - یہ بہت بری بات ہے۔وہ اللہ کا انکار کرتے ہیں صرف وہ بغاوت کی وجہ سے۔داؤ د وسلیمان کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کی۔اس وجہ سے ان پر لعنت پڑی اور وہ تتر بتر ہو گئے۔ہسپانیہ میں اللہ کی مخالفت ہوئی۔ان پر عذاب الہی نازل ہوا۔مسلمانوں کو وہاں سے نکال دیا گیا۔صرف عمدہ عمدہ کتابیں لے جانے کی اجازت دی گئی۔مگر ان کتابوں کے تینوں جہاز جو انہوں نے بھرے تھے بمع آدمیوں کے غرق کر دیئے گئے۔بغداد میں احکام الہی کا مقابلہ کیا گیا تو ان کا نام و نشان اٹھادیالَهُمْ دَارُ السَّلَامِ عِنْدَرَبَّهِمْ کے تفاؤل پر اس کا نام دار السلام رکھا گیا تھا۔عیسائیوں نے مسیح کی مخالفت کی۔ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا اور ان پر غضب پر غضب نازل ہؤا۔ان کی کتاب میں لکھا تھا کہ اگر تم آخری نبی کو مان لو گے تو تم کو اجر ملے گا اور تم کو نجات دی جاوے گی مگر انہوں نے نہ مانا اس لئے ان کو عذاب مہین ہوگا۔الفضل جلد نمبر ۲۸ مؤرخه ۲۴ دسمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۱۵) بِغَضَب على غضب مسیح کی مخالفت کا غضب پھر اس نبی کی مخالفت کا غضب۔609 (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۲۵ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۱۶) عَذَابٌ مُّهِينٌ۔یہ سزا ہے استکبار کی جس کی وجہ سے انکار کیا۔تشخیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹۔ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۳۸) لے ان کے لئے ان کے رب کے ہاں سلامتی والا گھر ہے۔(ناشر)