حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 271
حقائق الفرقان ۲۷۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة مَا عَرَفُوا۔دوسری جگہ فرمایا ہے يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ (البقرة: ۱۴۷) (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۵ ۲ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۱۶،۱۵) وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَبٌ مِّنْ عِنْدِ اللهِ - جب ان کے پاس اللہ کی کتاب آئی جو اس کتاب کی اور پیشگوئیوں کی تصدیق کرتی ہے جو تمہارے پاس ہے۔تم نبی کریم صلعم کی آمد آمد کی خبر دے رہے تھے جیسا میں نے اپنے زمانہ میں دیکھا کہ لوگ مہدی کے لئے رو رو کر دعائیں کرتے تھے مگر وہ آیا بھی اور چلا بھی گیا مگر کسی کو خبر نہ ہوئی۔۔۔اصل بات یہ ہے فَلَمَّا جَاءَهُم مَّا عَرَفُوا كَفَرُوا بِہ۔آئے پر انکا ر ہی ہوتا ہے۔پھر دل لعنتی ہو جاتے ہیں ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔الفضل جلد نمبر ۲۷ مؤرخہ ۱۷ / دسمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) انسان میں ایک مرض ہے جس میں یہ ہمیشہ اللہ کا باغی بن جاتا ہے اور اللہ کے رسول اور نبیوں اور اس کے اولوالعزموں اور ولیوں اور صدیقوں کو جھٹلاتا ہے۔وہ مرض عادت، رسم ورواج اور دم نقد ضرورت یا کوئی خیالی ضرورت ہے۔یہ چار چیزیں میں نے دیکھا ہے چاہے کتنی نصیحتیں کرو۔جب وہ اپنی عادت کے خلاف کوئی بات دیکھے گا یا رسم کے خلاف یا ضرورت کیخلاف تو اس سے بچنے کے لئے کوئی نہ کوئی عذر تلاش کر لے گا۔میں نے کئی آدمیوں کو دیکھا ہے ان کو کسی برائی یا بد عادت سے منع کیا جاوے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم کتنی نیکیاں کرتے رہتے ہیں۔یہ بد عادت ہوئی تو کیا۔معلوم ہوتا ہے وہ بدی ان کو بدی نہیں معلوم ہوتی۔انبیاء اور خلفاء اور اولیاء اور ماموروں کی مخالفت کی یہی وجہ ہے۔یہ قرآن کریم آیا اور اس نے ان کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہی پہلے لوگوں سے بیان کیا کرتے تھے مگر جب قرآن شریف آیا كَفَرُوا بِہ انہوں نے اس کا انکار کر دیا فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَفِرِین تو اللہ سے وہ بعید ہو گئے۔ایک آدمی جب جھوٹ بولنے لگتا ہے تو پہلے تو مخاطب کو کہتا ہے کہ میری بات کو جھوٹا نہ سمجھنا میں تمہیں سچ سچ بتا تا ہوں میں تو جھوٹے کو عنتی سمجھتا ہوں مگر ہوتا دراصل وہ خود ہی جھوٹا ہے۔الفضل جلد نمبر ۲۸ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) لے اہل کتاب ( محمد مصطفی احمدمجتبی ) کو پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔(ناشر)