حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 247
حقائق الفرقان ۲۴۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة خوب سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس کی خلاف ورزی کوئی نیک نتیجہ نہیں رکھتی۔ليحاجوكم - حجت میں غالب آئیں گے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۸ مورخه ۲۵ رفروری ۱۹۰۹ء صفحه ۱۴) انسان کے ذمے تین طرح کے حقوق ہیں۔اوّل اللہ تعالی کے۔دوم۔اپنے نفس کے۔سوم مخلوقات کے۔ان حقوق کے متکفل قرآن کریم اور احادیث صحیحہ ہیں۔جناب البہی کے حقوق کون بیان کرسکتا ہے عقل میں تو نہیں آ سکتے۔جس طرح وہ وراء الوراء ہستی ہے اس کے حقوق بھی ویسے ہی ہیں۔جب انسان ایک دوسرے انسان کی رضامندی کے طریقے کو اچھی طرح نہیں جان سکتا تو خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے رستوں کو کب کوئی پاسکتا ہے اور جب انسان کے حقوق کو نہیں سمجھ سکتے تو خدا کے حقوق کو کس طرح سمجھ سکتے ہیں۔مثلاً میں یہاں کھڑا ہوں تم میری رضامندی کی راہ کو نہیں جانتے۔تو وہ ذات جو لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ (الشوری:۱۲) ہے اس کے حقوق کو کیونکر انسان سمجھ سکتا ہے؟ اسی طرح انسان کے حقوق بھی ہیں۔انسان بہت کچھ غلطیاں کر جاتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے ایک قانون بنایا ہے۔ایک صحابی دن کو روزے رکھتے اور رات کو عبادت کرتے تھے۔وہ حضرت سلمان فارسی کے دوست بھی تھے۔ایک دفعہ سلمان ان کے گھر تشریف لے گئے تو ان کی بیوی کے کپڑے خراب تھے۔انہوں نے ان کی بیوی سے پوچھا کہ بھا وجہ صاحبہ آپ کی ایسی حالت کیوں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے کپڑوں کی حالت کیونکر اچھی ہو تمہارے بھائی کو تو بیوی سے کچھ غرض ہی نہیں۔وہ تو دن بھر روزے اور رات کو عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔حضرت سلمان نے کھانا منگوایا۔اور اس دوست کو کہا کہ آؤ کھاؤ۔انہوں نے جواب دیا کہ میں تو روزے دار ہوں۔تو حضرت سلمان نے ناراضگی ظاہر کی تو مجبورا اُس صحابی نے آپ کے ساتھ کھانا کھا لیا۔پھر حضرت سلمان نے جب رات ہوئی تو چار پائی منگوا کر ان کو کہا کہ سو جاؤ۔انہوں نے اس سے لے اس کے جیسی تو کوئی بھی چیز نہیں۔( ناشر )