حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 244 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 244

حقائق الفرقان ۲۴۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اس آیت میں جس نفس کا ذکر ہے وہ عورت ہے۔مرد کو اگر مارتے تو کچھ حرج نہ تھا۔تحقیقات کرنے پر انہوں نے اس کو ایک دوسرے پر تھوپا۔آخر نبی کریم صلعم نے مدینہ کے سارے بد معاشوں کو جمع کیا اور اس عورت کے آگے سب کو پیش کیا۔(وہ بول تو نہ سکتی تھی مگر قوت ممیزہ اس میں تھی ) جب قاتل کو اس کے سامنے لایا گیا تو اس نے سر سے اشارہ کیا کہ یہی ہے۔اس کو نبی کریم صلعم نے کئی پیچوں سے اس عورت پر پیش کیا مگر وہ اس کو پہچان لیتی۔اس کا ذکر بخاری شریف میں ہے۔اس بدمعاش نے اس عورت کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا تھا ( کچھ زیور کے سبب سے )۔وَاللهُ مُخْرِج مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ۔اللہ اس بات کو نکالنے والا تھا آخر وہ بات نکل آئی۔فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا۔تب ہم نے اس قاتل کو مارنے کا حکم دیا اور یہ اس کے بعض کا بدلہ تھا۔اس نے پہلے بھی کئی بدمعاشیاں کیں اور آگے بھی وہ کرتا۔اس لئے یہ سزا اس کے بعض کی ہے۔اور جگہ فرمایا وَ لَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيوةُ (البقرة : ۱۸٠) بدلہ لینے میں تمہارے لئے حیات ہے۔یخی کا لفظ رکھا ہے یہ ان کی بے حیائی ہے کہ انہوں نے عورت کو مارا۔عورت کو مارنا کوئی بہادری نہیں۔الفضل جلد ۱ نمبر ۲۳ مورخه ۱۹ نومبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) یاد کرو جب تم نے ایک جی کو قتل کیا اور لگے ایک دوسرے پر تھوپنے۔اللہ تعالیٰ نکالنے والا ہے جو تم چھپاتے ہو۔تب ہم نے کہا قاتل کو مارو۔اور یقتل تو بعض نفوس کے بدلہ ہے۔تمہیں کیا معلوم کتنے آدمی اس قاتل نے مارے۔کیونکہ یعفوا عن کثیر آیا ہے اور آئندہ اس کے ہاتھ سے قتل ہونے والے بچ گئے۔جیسے فرمایا۔وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَوةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ - البدر جلد ۱۴ نمبر۷ مورخه ۲۸ راگست ۱۹۱۳ ، صفحه ۳) مخرج۔تم گائے کی خفیہ طور سے عبادت کرتے تھے خدا نے اس کو ظاہر کر دیا۔پیس کہا ہم نے کر قتل کرو گائے کو کیونکہ اُس کو تم نے معبود بنایا تھا۔تم گائے کی پوجا کر کے مردہ ہو گئے تھے۔اس لئے خدا نے چاہا کہ تمہارے دلوں سے شرک کی تاریکی اور زنگ دور کر کے نور ایمان اور روحانیت سے بھر دے اور تم کو زندہ کر دے۔دیکھو اس طرح سے اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر کے اپنے نشان دکھلاتا ہے تا کہ تم اگو نہ بنو بلکہ عقل کرو۔(البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخہ ۷ رنومبر ۱۹۱۲، صفحہ ۶۳)