حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 229 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 229

حقائق الفرقان ۲۲۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة میں تکرار کرتے ہیں۔پھر بدی میں ترقی کرتے ہیں۔رفتہ رفتہ بدیوں میں کمال پیدا کر لیتے ہیں۔کل جہان میں دیکھو بدی اسی طرح آتی ہے کبھی یکدم نہیں آتی۔حضرت موسیٰ اپنی قوم کو کہتے ہیں کہ جو ہم کہتے ہیں وہ مان لو۔انہوں نے جواب دیا یہ تو ہم سے نہیں ہوسکتا۔نافرمانی کا نتیجہ کیا ہوا؟ ذلیل اور مسکین ہو گئے۔- ذلِكَ بِمَا عَصَوا وَ كَانُوا يَعْتَدُونَ کا پہلے انسان ادنیٰ نافرمانی کرتا ہے پھر ترقی کرتا کرتا حد سے بڑھ جاتا ہے۔حضرت موسی کی قوم با وجود کمزور ہونے کے پانی تک کے لئے اجازت مانگتی ہے۔حضرت موسی نے خدا سے دعا کی۔حکم ہوا پہاڑ پر جاؤ وہاں پانی بہتا ہے پیو۔ایک کھانے پر بس نہیں کی۔کہنے لگے۔دعا کریں ہم کھیتی باڑی کریں۔ترکاری، لکڑیاں لہسن ، مسور اور پیاز کھا ئیں۔موسی علیہ السلام نے فرمایا یہ بڑی غلطی ہے۔یہ ادنی چیزیں ہیں۔یہ تو تمہاری محنت سے مل سکتی ہیں۔کم عقلو! چھوٹے کاموں میں لگ جاؤ گے تو حکومت کس طرح کرو گے۔ان میں سے جو کمزور تھے ان کو حکم دیا جاؤ کسی گاؤں میں جا کر آباد ہو۔فؤمِھا کا ترجمہ بعض نے گندم کیا ہے یہ غلط ہے میں کبھی نہ کروں گا۔میں نے ایک کتاب دیکھی اگر چہ وہ مجھے نا پسند آئی مگر میں نے اس کو خرید لیا۔رات کو مجھے رؤ یا ہوا کہ ایک بازار ہے اس میں بہت خوبصورت پیاز اور لہسن خرید لیا۔جب جاگ آئی تو زبان پر قوْمِھا تھا تو سمجھ آئی کہ لہسن پر خوب ہاتھ مارا۔(الفضل جلد نمبر ۱۹ مورخه ۱/۲۲اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحه ۱۵) وَ إِذِ اسْتَسْقى موسى لِقَومِه۔اور جب موسیٰ نے یہ سبب قلت کے اپنی قوم کے لئے پانی کے واسطے دعا کی تو ہم نے کہا کہ اِضْرِبْ نِعَصَاكَ الْحَجَرَ - اضرب۔اپنی جماعت کو پہاڑ پر لے جایا اپنے عصا کو پتھر پر مار۔اُس نے ایسا ہی کیا۔پس وہاں بارہ چشمے موجود ہو گئے۔اذ استسقی بھی سنت انبیاء ہے۔حضرت نبی کریم نے بھی نماز استسقا پڑھی ہے۔عصاء کے معنے جماعت کے بھی ہیں اور لاٹھی پر چونکہ پانچوں انگلیاں جمع ہو جاتی ہیں۔اس لئے اس کو بھی عصاء کہتے ہیں۔