حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 226
حقائق الفرقان ۲۲۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة جہاں ان کی صحت و قوای جسمانی میں فتور آ گیا۔آزادی اور جنگل اور پہاڑوں کی رہائش اور بے محنت رزق کی بخشش تھی۔خدا کا مقصود یہ تھا کہ ان میں حریت کی روح بھر جائے اور پھر یہ فاتح بنیں مگر انہوں نے اس انعام الہی کی قدر نہ کی اور کہا کہ زمیندارہ کریں گے۔بعض حدیثوں سے ثابت ہے کہ آپ نے ایک گھر میں زمیندارہ کے آلات دیکھے تو فرمایا ذلّت کے سامان ہیں۔اس ارشاد نبوی سے یورپ کی قوموں نے نفع اٹھایا۔دیکھو کہ جنگلوں کو آباد کر دیا ہے مگر وہ زمینیں ہمیں دیتے ہیں۔انگریزوں کو عموما نہیں دلاتے۔یہ اس لئے کہ انہوں نے دیکھ لیا مسلمانوں کی چار قومیں سید مغل، پٹھان ، ترک فاتح ہو کر آئیں لیکن آ کر زمیندارہ شروع کر دیا تو آخر کار کمزور ہوگئیں۔کیونکہ وہی زمین جو کسی مورث اعلیٰ کے پاس ہزار بیگہ تھی اولاد میں تقسیم ہوتے ہوتے ہر ایک کے پاس چار چار بیگھ رہ گئی جس سے قوت لا یموت بھی حاصل نہیں ہو سکتی۔خیر۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اچھا جو کچھ تم نے چاہا وہ ہم نے دیا۔جاؤ کوئی گاؤں آباد کر لومگر ان سے یہ معاہدہ کر لیا کہ شام کے فتح ہونے تک دوسری قوم کے ساتھ رہیں گے۔ضُرِبَت۔لگا دی گئی۔ذِلّة۔دن بدن کم ہوتے گئے۔ذلت کے معنے کمی کے ہیں۔مَسْكَنَةُ۔بے دست و پا ہو گئے۔زمیندارہ چھوڑ کے کہیں نہ جاسکتے تھے۔پھر یہ غضب زمیندارہ سے نازل نہیں ہوا۔بلکہ اس لئے کہ وہ آیات اللہ کا کفر کرتے۔انبیاء کے قتل کی تدبیریں سوچتے رہتے۔یہ جرات کیوں ہوئی پہلے چھوٹی چھوٹی نافرمانیاں کرتے تھے جن سے جرات بڑھتے بڑھتے یہاں تک نوبت پہنچی۔اس بات کا تماشا میں نے آگ سے دیکھا ہے کہ پہلے ایک دیا سلائی ہوتی ہے جس کی تیلی کے ایک کنارہ پر آگ مخفی ہوتی ہے۔مگر ذرا گھنے سے وہ بھڑک اٹھتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے وہ مکانوں اور شہروں کو جلا سکتی ہے۔اسی طرح گناہ پہلے تھوڑا سا ہوتا ہے پھر بڑھتے بڑھتے فسق و فجور تک نوبت پہنچتی ہے پھر اس سے کفر تک۔یہاں تک کہ دوزخ کی آگ اس کا انجام ہے۔تم اپنے تئیں پہلے ہی سے بچاؤ تاہلاکت میں نہ پڑو۔بنی اسرائیل