حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 224
حقائق الفرقان ۲۲۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة گڑی ہوں گیہوں ( یا لہسن ہوں ) مسور اور پیاز ہوں وہ ہمارے لئے پیدا کر دے۔موسیٰ نے کہا کیا تم بہتر چیزوں کو چھوڑ کر ادنی چیزوں کی خواہش کرتے ہو (اچھا) تم کسی شہر میں چلے جاؤ تم ، جو تم لوگ مانگتے ہو وہ تمہیں مل جائے گا اور ان پر ذلت اور مسکینی کی مار پڑی اور وہ اللہ کے غضب میں آگئے یہ ان کی حالت اس وجہ سے ہوئی کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا۔اور وہ ناحق نبیوں سے مقابلہ کرتے تھے اور ان کے در پے قتل رہتے یہ جراتیں ) اس لئے کہیں کہ انہوں نے نافرمانی اختیار کی اور اللہ کی حدوں سے آگے نکل گئے تھے۔تفسیر۔وَإِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ۔دنیا میں قحط پڑتے ہیں ان کے دُور کرنے کے لئے دو راہیں ہیں۔ایک تو یہ کہ مدبرانِ ملک نے مل کر سوچا کہ اب کیا تد بیر کریں اور پھر جو مجموعی طور سے رائے قائم ہو اس پر عمل کیا چنانچہ اس زمانے میں ریل گاڑی کو قحط کا علاج سمجھا گیا تا کہ جس جگہ پیداوار ہو وہاں سے اس جگہ فورا پہنچائی جاوے جہاں پیداوار نہیں ہوئی پھر گرانی وارزانی کی اطلاع جلد بہم پہنچانے کے لئے تارا ایجاد کی گئی۔دوسری تجویز یہ ہے کہ جنگلوں کو آباد کر دیا تاکہ لوگوں کے لئے کافی غلہ بہم پہنچ سکے۔ایک دنیا دار تو اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتا مگر انبیاء کی راہ ان راہوں سے علیحدہ ہے۔وہ ہر مصیبت کا علاج اللہ کے حکم کے ماتحت کرتے ہیں۔دیکھو بعض صحابہ کرام کو جب کفار سے تکالیف پہنچیں تو وہ اور ملکوں کو ہجرت کر کے چلے گئے مگر نبی کریم خود نہیں گئے بلکہ ایک دن حضرت ابوبکر کے گھر گئے اور فرمایا کہ ہم اور آپ اکٹھے چلیں گے۔میں امید کرتا ہوں کہ خدا مجھے بھی ہجرت کا حکم دے۔اوروں نے اگر اپنے ارادے اور تکالیف سے سفر کیا مگر نبی کریم حکم الہی کے منتظر ر ہے۔اسی طرح آپ کے زمانہ میں قحط ہو ا۔آپ اور بھی تدابیر کر سکتے تھے مگر انبیاء کا طریق دعا ہے اسی پر عمل کیا۔چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کی قوم کو بھی جب ایسی مصیبت پیش آئی تو انہوں نے پانی مانگا قوم کے لئے کس سے؟ چونکہ یہ بات بدیہی ہے کہ ایک نبی اللہ ہی سے مانگتا ہے اس لئے اللہ کا ذکر نہیں کیا۔اس پر ہم نے الہام کیا۔