حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 196 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 196

حقائق الفرقان ۱۹۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة یہ نام رکھا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا بہادر سپاہی ہے۔ماں باپ نے تو یعقوب نام رکھا تھا اللہ تعالیٰ نے اسرائیل نام رکھا۔یہاں ہم کو بتایا کہ تم کن اسلاف کی اولا دہو۔انعامات کو یاد کرنے سے یہ فائدہ ہے کہ ہمارے احکامات کی بجا آوری میں سستی نہ کرو۔ہمارے احکامات کی بجا آوری کا یہ نتیجہ ہو گا کہ جو نتائج پہلوں کو عطا ہوئے ہیں وہ تم کو بھی عطا ہو جائیں گے۔بعض اوقات انسان کو ایک اور مشکل پیش آجاتی ہے وہ یہ کہ بعض آدمی غریب ہوتے ہیں ان کو فکر ہوتا ہے کہ ہم کسی بڑے آدمی کی مخالفت کریں تو ہم کو نقصان پہنچے گا۔- نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ۔سب سے بڑی نعمت تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجو د مبارک تھا۔أونِ بِعَهْدِكُمْ۔میرے وعدوں کے پابند ہو جاؤ۔جو میں نے ان پر ثمرات عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے وہ میں دے دوں گا۔چونکہ کسی شرعی حکم پر عمل کرنے میں بعض آدمیوں کو مشکلات ہوتی ہیں اور بڑے آدمیوں کا خوف ہوتا ہے کہ شاید وہ تکلیف دیں۔اس لئے فرماتا ہے ايَّايَ فَارْهَبُونِ ڈر صرف میرا ہی رکھو۔انسان حق بات کا اظہار بوجہ مالی ضعف یا ضعف جاہ و جلال یا ضعف علم و ہمت کے نہیں کر سکتا۔مثلاً ایک آدمی غریب ہے اپنا جتھا نہیں رکھتا پس وہ دوسروں کا محتاج ہے فرماتا ہے کہ تم اظہار حق میں کسی کی پرواہ نہ کرو۔تم میرے وفادار بنو اور میرا ڈر رکھو میں ضرور تمہاری مددکروں گا۔یہ ضعفاء کے لئے ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۷ مورخه ۱۸ رفروری ۱۹۰۹ صفحه ۱۰،۹) قرآن سنانے والوں کو یہودیوں، عیسائیوں میں قرآن سنانے کا کم موقعہ ملتا ہے پس جہاں یہ ذکر ہے وہاں مسلمانوں کو متنبہ کرنا مقصود ہے۔پس مسلمان کو چاہیے کہ جن ناپسندیدہ کاموں کی وجہ سے یہودی عیسائی عذاب پانے والے ہوئے ان سے بچے اور جن پسندیدہ کاموں کے سبب انعام پائے وہ کرے۔اس قوم کے مورث اعلیٰ کا نام نہیں لیا بلکہ لقب بیان کیا ہے اس سے ان کو شرم اور جوش دلانا مقصود تھا۔عربی زبان میں اسرائیل کے معنے ہیں خدا کا بہادر سپاہی۔اس نام سے یہ غیرت دلائی کہ تم بھی اللہ کے بہادر بنو۔ہماری سرکا رسید الا برار سے بڑھ کر اور کون اللہ کا پہلوان ہے۔بس اتنے بڑے انسان کی