حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 193
حقائق الفرقان ۱۹۳ سُورَةُ الْبَقَرَة سے بندھوا کر لائے ہیں اگر انہوں نے آپ باندھی ہیں تو پھر بندھوا کر دیکھ لو۔چنانچہ جب ان کو حکم دیا گیا تو نہ باندھ سکے کیونکہ گھر میں تو بڑے تکلف اور آئینہ سامنے رکھ کر باندھا کرتے تھے۔عورتوں سے مراد نفس ہی لے لو۔غرض اس وقت بھی پگڑیوں کی بندش ان کے رنگ اور ململوں اور لمبائی چوڑائی سب باتوں میں فرق ہے۔یہ اختلاف اور فرق دور تک چلتا ہے ایک خالق ہے ہم سب مخلوق ہیں پھر اختلاف ہے ایک مرد ہے ایک عورت دونوں کے کام الگ ہیں۔ہر ایک کے اعضاء میں فرق ہے۔باوجود اس اختلاف کے پھر وہ اتحاد چاہتے ہیں جب ان کا اختلاط ہوتا ہے تو پھر وہ کسی اور کے خواہشمند ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی بچہ ہو جاوے۔ہمیں بھی خطوط آتے ہیں کہ دعائیں کرو کسی نے اپنے بچہ کا نام غلام مرزا رکھا مگر وہ زندہ نہ رہا۔غرض اکیلا ہو کر بیوی چاہتا ہے اس کے آنے پر پھر اولا د چاہتا ہے پھر اولاد کی شادی پھر ان کی اولاد کی خواہش کرتا ہے۔اختلاف ہے تو کتنا اتحاد ہے تو کس حد تک۔یہ تمام اختلافات اللہ تعالیٰ کی ہستی کے دلائل ہیں خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اخْتِلَافُ الْسِنَتِكُم ( الزوم : ٢٣) فی الحقیقت اگر ایک ہی قسم کے چہرے ہوتے اور ایک ہی قسم کی آواز میں قدوقامت ہوتے تو کیسا دکھ اور مصیبت ہوتی دوست دشمن بیوی بہن میں تمیز نہ ہو سکتی۔اختلاف مثمر ہونے کے لئے وحدت چاہتا ہے پس اختلاف جہاں بہت ہی مفید ہے وہاں باوجود اختلاف کے وحدت کے نظام کو چاہتا ہے تب یہ نتیجہ خیز اور مثمر ہوسکتا ہے۔میں دیکھتا ہوں ایک دوات ہے وہ آسٹریا ، چائنا یا انگلینڈ یا امریکہ سے بن کر آتی ہے۔پھر سیاہی اور اس کے اجزا کو دیکھو جب تک باہم مل کر متحد نہیں ہو گئے اس سیاہی میں لکھنے اور نقش پذیر ہونے کی طاقت نہیں۔پھر قلم ہے اس میں آجکل کے قلم کو مد نظر رکھ کر دو تین جزو ہیں کچھ لکڑی ہے کچھ لوہا ہے یہ اجزا اگر باہم نہ ملیں تو قلم نہیں بن سکتا۔پھر قلم بھی ہو لیکن اگر سیاہی کے ساتھ اس کا تعلق نہ ہو تو کچھ فائدہ نہیں قلم کسی شخص کے ہاتھ میں ہو اور وہ ہاتھ اس کو اس دوات تک لے جاوے اور پھر اس سیاہی سے کاغذ پر کچھ لکھے۔کاغذ کے مختلف اجزا کو دیکھو اور غور کرو پھر لکھنے کے لئے ہاتھ کی جنبش اور لے اور تمہاری بولیوں۔۔۔کا مختلف ہونا بھی۔(ناشر)