حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 194 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 194

حقائق الفرقان ۱۹۴ سُورَةُ الْبَقَرَة آنکھ کی بصارت اور دماغ کی قوت متفکرہ سے کام نہ لیا جاوے تو کچھ بھی نہیں۔اب تمام پراگندہ صورتوں پر غور کرو پھر ان کے اتحاد کو دیکھو وہ حالت منتشرہ میں کیا کچھ بھی مفید ہوسکتی تھیں؟ لیکن جب ان میں اتحاد اور اختلاط ہوا اور ایک مرکز پر جمع ہو گئیں تو اس سے کتابیں اور نہایت قیمتی تحریریں پیدا ہو گئیں۔یہ مضمون بجائے خود بڑا وسیع مضمون ہے اور اس پر غور کر کے نہایت مختصر الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ نظام عالم کی رونق اختلاف سے ہے جب جب وہ اختلاف ایک مرکز پر متحد ہو۔اپنے وجود پر غور کروکس قدر مختلف چیزوں کا مجموعہ ہے لیکن ان مختلف چیزوں کا اجتماع کیسا خوبصورت بن گیا ہے۔اب تم سوچو کہ باوجود یکہ تمہارے رنگ و روپ تمہاری شکلیں، علوم عقول تعلیم ، تربیت ، سوسائٹی ، مطالعہ کی کتابیں اور خواہشیں جدا جدا ہیں۔پھر تم دیکھو کہ کیوں اکٹھے ہوکر باہم ایک جگہ جکڑے گئے۔تناسخ والوں کو اس اختلاف نے غلطی میں ڈالا اور وہ اس اختلاف کو تناسخ کا نتیجہ سمجھ بیٹھے کاش وہ اس اختلاف کی حقیقت پر غور کرتے تو اس کثرت میں وحدت کا مزہ پاتے۔یہ خوب یادرکھو کہ کثرت میں وحدت کی ضرورت ہے جب تک وحدت نہ ہو کثرت مفید ہی نہیں ہو سکتی۔دیکھو کلکتہ سے لے کر پشاور تک ایک شاہی سڑک ہے جس پر ریلیں دوڑتی ہیں۔اب تم غور کرو کہ یہ مختلف قطعات زمین مختلف لوگوں کے قبضہ میں تھے ایک طاقت جس کو گورنمنٹ کہتے ہیں آئی اور اس نے ان قطعات کو مختلف مالکوں سے لے کر ایک کی ملکیت میں شامل کر دیا تب اس کثرت میں وحدت پیدا ہوگئی۔پھر اینٹوں پتھروں اور مٹی کو مختلف جگہ سے لا کر اس پر جمع کیا بظاہر مختلف چیزیں جمع کر دیں مگر ان کو ایک سطح اور ایک ترتیب میں رکھ کر ایک سڑک کی شکل میں تبدیل کر دیا پھر لکڑی اور لوہے کو بچھا کر اور ایک خاص صورت سے انہیں ملا کر لائن بچھا دی اور سكة الحدید بن گئی پھر اس لائن پر گاڑیوں کو جمع کیا جن میں مختلف عقلوں اور ہاتھوں کے ذریعہ مختلف چیزوں لکڑی، لوہا، رنگ وغیرہ کو ایک خاص شکل میں بنایا گیاوہ اختلاف بجائے خود قائم رہ کر وحدت کا رنگ پیدا ہو گیا۔پھر ایک اور چیز جس کو انجن کہتے ہیں ان کے آگے لگادیا پھر اس انجن میں آگ پانی کوئلہ رکھا گیا سب کی سب مختلف اور متضاد چیزیں تھیں مگر ایک خاص ترکیب سے ان کو ملا یا تب ان سے بھاپ پیدا ہو کر حرکت کا موجب ہو گئی اب کلکتہ اور پشاور کے درمیان ریل گاڑی دوڑنے