حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 190 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 190

حقائق الفرقان ۱۹۰ سُورَةُ الْبَقَرَة ހވއވމ پھر کہتا ہوں وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا (ال عمران:۱۰۴) میں تمہیں پھر یاد دلاتا ہوں کہ قرآن مجید میں صاف طور پر لکھا ہے کہ اللہ ہی خلیفے بنایا کرتا ہے۔یاد رکھو آدم کو خلیفہ بنایا تو کہا اِنِّی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقرة: (۳۱) فرشتوں نے اس پر اعتراض کر کے کیا خمیازہ اٹھایا۔تم قرآن میں پڑھو جب فرشتوں کی یہ حالت ہے اور انہیں بھی سُبحنك لا علم لنا (البقرة : ٣٣) کہنا پڑا تو تم مجھ پر اعتراض کرتے ہو۔اپنا منہ دیکھ لو مجھے وہ لفظ خوب یاد ہیں کہ ایران میں پارلیمنٹ ہوگئی اور دستوری کا زمانہ ہے انہوں نے اس قسم کے الفاظ بول کر جھوٹ بولا بے ادبی کی۔خدا تعالیٰ کی غیرت نے انہیں دستوری کے نتیجے ایران ہی میں دکھا دیئے۔میں پھر کہتا ہوں وہ اب بھی تو بہ کر لیں میں دوستوں کو کہتا ہوں لَا اسْتَلكُمُ عَلَيْهِ مَالاً إِنْ أَجْرِى إِلَّا عَلَى اللهِ (هود:۳۰) میرا مولا مجھے سب کچھ دیتا ہے اگر وہ نہ چاہتا تو جب میں گھوڑے سے گرا تھا تو اس صدمہ سے مرجاتا مگر اسی نے میری حفاظت کی اور جہاں پچھلے سال مجھے بولنے کی طاقت نہ تھی آج خدا کے فضل سے میں اس سے بھی بلند آواز سے بول سکتا ہوں (الْحَمْدُ لِلّهِ عَلی ذَلِک۔ایڈیٹر ) پس ایسے خیالات کو چھوڑ دو۔پھر جو اخباروں میں بعض مضامین دیتے ہو اللہ تعالیٰ کے آگے ڈرواور نہ تم پر الزام قائم ہوگا۔خوب یاد رکھو اور سن رکھو میری امانت دیانت کی حفاظت تم سے نہیں ہوسکتی اور کوئی بھی نہیں کرسکتا۔کل ایک بیوی نے مجھے سو روپیہ دیا اس کے بیٹے نے ایک مصیبت سے مخلصی پائی اس نے نذر مانی تھی۔مجھے وہ روپیہ دیا۔کیا کوئی جان سکتا تھا میری بیوی میرے پاس بیٹھی تھی میں نے سمجھا کہ شائد اس کا دل للچایا ہو۔میں نے اس دینے والی سے پوچھا کہ کہاں خرچ کریں وہ بولی کہ کسی اچھی جگہ خرچ کرو۔میں نے وہ جمع کر کے گھر میں نہیں رکھے۔میرے پاس تین قسم کی رقوم آتی ہیں کچھ کپڑے آتے ہیں یتامی اور مساکین کے لئے اور ایسا ہی روپیہ بھی آتا ہے کوئی روپیہ دیتا ہے کہ جہاں آپ چاہیں خرچ لے اور مضبوط پکڑو اپنے آپ کو بچاؤ حبل اللہ کے ذریعہ سے ہے میں خاص زمین میں ایک نائب حاکم بنانے والا ہوں۔(ناشر) سے آپ کی ذات بے عیب بڑی خوبیوں والی ہے جو تو نے ہمیں بتا دیا ہے اُس کے سوائے ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ہے میں اس تعلیم پر تم سے کچھ مال بھی نہیں مانگتا میری مزدوری تو اللہ پر ہے۔