حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 191 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 191

حقائق الفرقان ۱۹۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کر دیں۔ایک کہتا ہے جہاں میرے مردے کو ثواب پہنچے وہاں خرچ کر دو اور کچھ خیرات بھی آتی ہے۔بعض لوگ مخصوص کر دیتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ کے خاص منشا کے ماتحت ہوتا یہ تمہاری ذات کے لئے ہے ان تمام اموال میں سے یتامی کے اموال کو تو میں لَا تَقْرَبُوا مَالَ اليتيم (الانعام: ۱۵۳) پر عمل کرنے کے لئے محمد علی صاحب کے حوالہ کر دیتا ہوں اور ایسا ہی ان کے کپڑے بھی۔جو اموال میرے پاس آتے ہیں میرے حفاظت کرنے والوں کو تو میرے گوہ کی بھی خبر نہیں تو اموال کی کیا خبر ہو؟ یہ سخت لفظ میں نے ایک خاص وجہ سے بولا ہے۔پھر جو کپڑے ہوتے ہیں بعض وقت ان میں قیمتی کپڑے ہوتے ہیں میں نے ایک دفعہ اپنی بیوی کو کہا کہ ان کو بیچ کر اوسط درجہ کے کپڑے بنادیا کرو تا کہ وہ زیادہ کے کام آ سکیں۔اس نے کہا کہ اگر میں خود لینا چاہوں تو میں نے اسے جواب دیا کہ ہرگز نہیں۔اگر کوئی اور بیوی ہو جو ہماری رشتہ دار نہ ہو وہ چاہے تو لے سکتی ہے۔تو ایسے کپڑے بعض وقت ہم بیچ دیتے ہیں گو بہت ہی کم موقع ملتا ہے۔مجھے یہاں شادیاں کرنی پڑتی ہیں اور وہ مسکینوں کی ہوتی ہیں ابھی آٹھ دس نکاح ان دنوں میں ہوئے ہیں اور بجز میری ایک نواسی کے سب مساکین تھے۔ان کو کپڑے اور مختصر سے زیور دینے پڑتے ہیں ایسے اموال سے جو مساکین کے لئے آتے ہیں اسی قسم کی ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں۔میں یہ واقعات اپنی برأت کے لئے نہیں کہتا اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے میں تمہاری مدح ، مذمت ، انکار کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ اس لئے سناتا ہوں کہ تم میں سے کوئی بدگمانی کر کے گنہ گار نہ ہووے۔ایک عورت نے ایک مرتبہ کہا کہ کپڑوں کے کو ٹھے بھر لئے ہیں کوئی حساب تو نہیں۔مجھے خیال ہوا کہ ممکن ہے اس قسم کے وہم مردوں میں بھی ہوں ایسے لوگ اگر ہوں تو توبہ کر لیں عشق است و ہزار بدگمانی سے میں تمہارے روپیہ کا محتاج نہیں حضرت صاحب کے وقت میں بھی ایسے اموال میرے پاس آتے تھے اور میں لے لیتا تھا۔میں تمہاری بھلائی کے لئے کہتا ہوں مجھے تم میں سے کسی کا خوف نہیں اور بالکل نہیں ہاں میں صرف خدا ہی کا خوف رکھتا ہوں۔پس تم ایسی بدگمانی نہ کرو اور تو بہ کرو۔اگر ہمارا گناہ ہے ہمارے ذمہ رہنے دو اگر میں غلطی کرتا ہوں اس بڑھاپے ا یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ۔(ناشر) سے ایک عشق ہزار بدگمانیاں پیدا کرسکتا ہے۔(ناشر)