حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 10 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 10

حقائق الفرقان 1۔سُوْرَةُ الْفَاتِحَةِ فوراً اندرونِ خانہ چلے جاتے تھے اور ایسا ہی اکثر میں بھی کرتا ہوں۔اس سے بعض نادان بچوں کو بھی غالباً یہ عادت ہو گئی ہے کہ وہ فرض پڑھنے کے بعد فوراً مسجد سے چلے جاتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ پھر وہ سنتوں کی ادائیگی سے محروم رہ جاتے ہیں۔ان کو یا درکھنا چاہیے کہ حضرت صاحب ( مرحوم و مغفور ) اندر جا کر سب سے پہلے سنتیں پڑھتے تھے اور ایسا ہی میں بھی کرتا ہوں۔کوئی ہے جو حضرت صاحب کے اس عمل درآمد کے متعلق گواہی دے سکے؟ (اس پر صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب جو حسب العادت مجلس درس میں تشریف فرما تھے کھڑے ہوئے اور بآواز بلند کہا کہ بے شک حضرت صاحب کی ہمیشہ عادت تھی کہ آپ مسجد جانے سے پہلے گھر میں سنتیں پڑھ لیا کرتے تھے اور باہر مسجد میں فرض ادا کر کے گھر میں آتے تو فوراً سنتیں پڑھنے کھڑے ہوتے اور نماز سنت پڑھ کر پھر اور کوئی کام کرتے۔ان کے بعد صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی یہی شہادت دی اور ان کے بعد حضرت میر ناصر نواب صاحب نے اور ان کے بعد صاحبزادہ میر محمد اسحق صاحب نے اور پھر حضرت مرحوم کے پرانے خادم حافظ حامد علی صاحب نے بھی اپنی عینی شہادت کا اظہار کیا )۔(ایڈیٹر بدر ) وتر (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ صفحه ۱) وتر میں بعض لوگوں کو غلطی لگی ہے کہ وہ صرف ایک رکعت پڑھ لیتے ہیں۔حضرت صاحب کا یہ طریق نہ تھا بلکہ آپ دورکعت پڑھ کر اور سلام پھیر کر پھر ایک رکعت پڑھتے تھے۔الحمد متن کتاب ہے شیخ محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں کہ میں نے جتنی دفعہ الحمد شریف پڑھا ہے ہر دفعہ اس کے نئے معنے میری سمجھ میں آئے ہیں۔میں اگر چہ ایسا دعویٰ تو نہیں کر سکتا مگر میں نے بغور دیکھا ہے اور میرا اعتقاد ہے کہ سارا قرآن مجید الحمد شریف کے اندر ہے۔الحمد متن ہے اور قرآن شریف اس کی شرح ہے۔الحمد میں شفا ہے صحابہ کے زمانہ میں ایک شخص کو جو کسی گاؤں کا نمبر دار تھا سانپ نے ڈسا تھا صحابہ نے