حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 176 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 176

حقائق الفرقان ۱۷۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اور اس کے حکم مانیں۔شیطان نے اپنی رائے کو ترجیح دی۔اس نے انکار کیا۔اکثر بازی کی کا فر ہو گیا۔بہت سے لوگ خدا کا فضل لے کر غضب کما لیتے ہیں بعض غضب تو نہیں کماتے مگر بھول جاتے ہیں۔خدا کے انکار اور شرک وغیرہ کی سزائیں بعد الموت ہیں مگر شوخی ، بے حیائی، کسی کو دُکھ دینا، کسی کی ہتک کرنا، ان سب کے عذاب اسی دنیا میں بھی آتے ہیں۔جو محض خدا کے حقوق ہیں ان کے لئے فروگذاشت معاف کی جاتی ہے مگر حقوق العباد میں دسترس کرنے کی سزا بہت جلد ملتی ہے۔بعض آدمیوں کو خدا تعالیٰ حسن دیتا ہے مگر وہ اسی نعمت سے عورتوں کو اپنے او پر رجھا کر اپنے لئے موجب غضب بنالیتے ہیں۔دولتمند انسان کے پاس دولت ایک نعمت ہے مگر یہی نعمت خدا کا غضب بن جاتی ہے اگر اسے فضولیوں اور عیاشیوں میں صرف کیا جائے۔یہی حال تندرستی، ذہانت، فراست، موز وقیت طبع کا ہے کہ بعض ایسی باتوں میں لگ جاتے ہیں جو حسن و عشق سے وابستہ ہیں۔ایک گندی کتاب ہمارے بچپن کے زمانہ میں پڑھائی جاتی تھی جس کا نام بہار دانش ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایک شاگرد اپنے استاد کے آگے کس طرح اس کا ترجمہ کر سکتا ہے۔غرض خدا تعالیٰ ذہن وذکا ، فہم و فراست ، جاہ و جلال حسن و جمال دیتا ہے مگر انسان انعام لے کر غضب کے نیچے آ جاتا ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخه ۱۱ فروری ۱۹۰۹ ء صفحه ۸) b ۳۵ ۳۶۔وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلَكَةِ اسْجُدُوا لِأَدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَى وَ اسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ - وَقُلْنَا يَادَمُ اسْكُنُ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هُذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّلِمِينَ - ترجمہ۔اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کے فرماں بردار بن جاؤ (اور آدم کے سبب سے سجدات شکر بجالا ؤ ) تو ابلیس کے سوا سب نے حکم مانا۔(ابلیس نے جو کافر تھا ) آدم کا انکار کر دیا اور اُسے اپنے سامنے بیج سمجھا اور وہ حق پوش تھا۔اور ہم نے حکم دیا اے آدم! تُو اور تیری بیوی ایک خاص باغ میں امن چین سے رہو اور تم دونوں میاں بی بی اس باغ کا ہر ایک پھل جو یا جہاں جی چاہے فراغت سے کھاؤ اور تم دونوں اس خاص درخت ( ممنوعہ ) کے پاس نہ جانا نہیں تو تم دونوں اپنی جان پر