حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 165 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 165

حقائق الفرقان سُورَةُ الْبَقَرَة کرے؟ گویا استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہوسکتا۔پھر یہ بھی خیال کر لینا چاہیے کہ فرشتے جو عرض کرتے ہیں وہ خود اس اعتراض کے نیچے ہیں۔وہ یہ بات کہہ کر آدم کو مفسد ٹھہراتے اور اس کو مرواتے ہیں اور ان انبیاء و اولیاء کے ظہور کے مانع ہیں جنہوں نے اپنے کمالات سے مخلوق کو فائدہ پہنچایا اور خدائی جلال کو ظاہر کیا اس طرح وہ خون ریزی کے مرتکب ہوتے ہیں مگر یہ سی نہیں۔بہر حال مجھے تو وہی پہلے معنے پسند ہیں کیونکہ اس سے مجھے بہت فائدہ پہنچا۔ایک دفعہ ایک شخص نے مجھے ایک خاص آدمی کے بارے میں پوچھا کہ آپ اسے کیسا سمجھتے ہیں؟ میں نے کہا نیک ہے، بزرگ ہے۔اس کے بعد اس نے مجھ سے پوچھا کہ وہ تو مرزا صاحب کا مخالف ہے۔میں نے کہا پھر کیا ہو ا ؟ آدم کی خلافت پر اس کے خلاف کہنے والے تو ملائکہ کہلاتے ہیں اور میں نے اسے ملک بھی نہیں کہا۔وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ اس پچھلی بات کا فرشتے ازالہ کرتے ہیں کہ ہم تجھے کل عیوب سے پاک سمجھتے ہیں اور تیری ذات اس سے اعلیٰ و ارفع ہے اور اقدس ہے کہ کوئی ایسا فعل کرے جس کا نتیجہ اچھا نہ ہو۔یہ قول کہ فرشتوں نے گویا اپنے تئیں منصب خلافت کے قابل سمجھا میں نے کہیں نہیں دیکھا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں تم سے اعلم ہوں اور اب اس اعلم ہونے کا ثبوت دیتا ہے کہ علم ادَمَ الْأَسْمَاء كُلها - (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۶ مورخه ۱۱ فروری ۱۹۰۹ء صفحه ۸،۷) دُنیا میں خلیفے پیدا ہوئے ، ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔چار قسم کے آدمیوں پر تصریح کی ہے جناب الہی نے۔ایک حضرت آدم کو فرمایا ابی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ یعنی ہم نے آدم کو زمین میں خلیفہ بنایا۔ایک حضرت داؤد کو فرما یا يُدَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ (ص:۲۷) اے داؤد! ہم نے تجھے خلیفہ بنایا۔ایک سارے جہان کے آدمیوں کو خلیفہ کا لقب دیا ثُمَّ جَعَلْنَكُم خَليفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (يونس:۱۵) ہر انسان کو فرماتا ہے تم کو خلیفہ بنایا اور ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے اعمال کیسے ہوں گے؟ ایک دفعہ جب میرا بیٹا پیدا ہوا اگر وہ نہ ہوتا تو اس وقت ایک شخص تھا جس کا خیال تھا میں ہی وارث ہو جاؤں گا ) تو کسی شخص نے اُس شخص سے بھی ذکر کر دیا۔اس کو بڑا رنج ہوا اور بے ساختہ اس کے منہ سے نکل گیا کہ یہ