حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 164
حقائق الفرقان ۱۶۴ سُورَةُ الْبَقَرَة آئندہ آنے والی باتوں کی نسبت مدتبرانِ ملک پیشگوئی کرتے ہیں جن کے تجارب صحیحہ آئندہ واقعات کے متعلق ہوں وہ تمدن کے فلاسفر کہتے ہیں جو دوائی اور نسخہ تجویز کرتے ہیں وہ بھی مریضوں کے متعلق ایک پیشگوئی کرتے ہیں جن کی ایسی پیشگوئیاں کثرت سے صحیح ہوں وہ طبیب حاذق کہلاتے ہیں۔ایک اور قوم ہے جو کسی حساب کی بنا پر پیشگوئی کرتی ہے پھر یہ پیشگوئیاں جس کی زیادہ صحیح ہوں وہ نجم کہلاتا ہے۔پھر اس سے بڑھ کر ایک اور قوم ہے جس کے دماغوں کی بناوٹ اس قسم کی ہے کہ وہ آئندہ واقعات کے متعلق بعض اوقات صحیح پیشگوئیاں کر سکتے ہیں ان میں سے جو اخلاق فاضلہ اور عقیدہ صحیحہ رکھتے ہیں وہ ولی کہلاتے ہیں۔دوسرے ہر پوپو۔پھر ایک اور قوم ہے جو ملائکہ کے نام سے مشہور ہے ان کو بعض معاملات کی قبل از وقت اطلاع خدا کی طرف سے دی جاتی ہے۔پھر ان سے بالا تر ایک اور قوم ہے جو ملائکہ سے میرے خیال میں افضل ہے انہیں رسول یا نبی کہتے ہیں ان کی اگر کوئی پیشگوئی بظا ہر صحیح نہ ہو تو یہ امر ان کی ترقی کا موجب ہے کیونکہ ایسی بات پیش آنے سے تو جہ جناب الہی میں بڑھے گی اور ترقیات کو طلب کرے گا۔بہر حال خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو اطلاع دی که انِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً میں زمین میں ایک خلیفہ مقرر کر نے والا ہوں۔خَلِيفَةً۔اس کے تین معنے ہیں (۱) قوم کا قائم مقام يخلف قوما (۲) جو اپنی جگہ کسی کو قائم مقام چھوڑے یخلف قومًا (۳) وہ بادشاہ جو نافذ الحکم ہو جیسے پنجابی میں منیا پرونیا“ کہتے ہیں۔آدم علیہ السلام کے متعلق تینوں باتیں صحیح ہو سکتی ہیں۔ان سے پہلے بھی قو میں ہوسکتی ہیں اور بعد میں بھی ہوئیں اور اللہ نے انہیں طاقت بھی بخشی۔ایک اور جگہ داؤد علیہ السلام کے متعلق یہی لفظ فرمایا انا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً ( ص : ۲۷) حضرت حق سبحانہ ، نے یہ اطلاع ملائکہ کو دی ہے اور ہرگز ہرگز بطور مشورہ نہیں بتایا۔جن لوگوں کا یہ خیال ہے وہ غلطی پر ہیں خدا کسی سے صلاح نہیں پوچھا کرتا۔اطلاع کا نام مشورہ نہیں ہوسکتا۔اس پر فرشتوں نے عرض کیا کہ کیا تو مقرر کرے گا اسے خود فساد کرے گا اور خون ریزی؟ ان معنوں پر بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ خدا کے سامنے ملائکہ نے اعتراض کیوں کیا اس لئے اس سے بچنے کے لئے بعض نے یہ معنے کئے ہیں کہ کیا آپ بھلا ایسا بنانے لگے ہیں جو فساد و خون ریزی اے ہم نے تجھ کو بنا یا نائب۔( ناشر )