حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 163
حقائق الفرقان ۱۶۳ سُورَةُ الْبَقَرَة اطلاع دی۔( یہ اطلاع دینا خدا کا خاص فضل ہے جو بعض خواص پر ہوتا ہے ) کہ میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔خلیفہ کہتے ہیں گذشتہ قوم کے جانشین کو جو اپنے پیچھے کسی کو چھوڑے بادشاہ کو ( ظاہری باطنی سلطنت کو شامل ہے۔) سیہ ملائکہ وہ تھے جن کے متعلق عناصر کی زمینی خدمات ہوتی ہیں اور یہ ثابت ہے اس آیت سے استكبرت أم كُنْتَ مِنَ الْعَالِينَ ( ص : ۷۶) جس سے معلوم ہوا کہ عالین اس حکم کے مکلف نہیں تھے۔صوفیوں نے لکھا ہے تمام عناصر کا مجموعہ انسان ہے۔ہر عنصر پر ایک فرشتہ ہوتا ہے وہ اپنے اپنے متعلقہ شئے کی ماہیت کو جانتے تھے وہ سمجھے کہ یہ تمام عناصر جب ملیں گے ضرور ان میں اختلاف ہو گا مگر انہیں معلوم نہ تھا۔خدا انسان کو مجموعہ کمالات بنانا چاہتا ہے۔واقعی ہماری غذا بھی عجیب ہے کچھ اس میں پتھر (نمک) ہے۔کچھ نباتات کچھ حیوانات۔پس وہ بول اُٹھے کہ وہ فساد کرے گا اور خونریزی۔مگر ہم تیری تسبیح و تقدیس کرتے ہیں تیری ذات کو اس بات سے منزہ سمجھتے ہیں کہ تیرا کوئی کام حکمت اور نیک نتیجہ سے خالی ہو۔فرشتے جو اعتراض کر رہے تھے دراصل وہی ان پر وارد ہوتا تھا کہ وہ بنی آدم کی پیدائش اور اس کی نسل کی نسبت چاہتے تھے کہ نہ ہو گو یا سفکِ دماء کرتے تھے اور یہ بھی فساد تھا۔ایک دفعہ کسی شخص نے مجھے کہا بہت علماء تمہارے مرزا صاحب کو خلیفہ اللہ نہیں مانتے۔میں نے کہا یہ تعجب نہیں۔خلفاء پر فرشتوں نے اعتراض کئے ہیں یہ علماء فرشتوں سے بڑھ کر نہیں مگر فرشتوں اور دوسرے لوگوں کے اعتراض میں فرق تھا فرشتوں نے وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ اور سُبْحَنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَناً کہہ کر اپنے اعتراض واپس لے لیا۔۔۔فرشتوں کے سوال سے انسان کو عبرت پکڑنی چاہیے جسے نہ تو خدا کی صفات کا علم ہے نہ صفات سے پیدا شدہ فعل کا۔بلکہ فعل کا اثر کچھ دیکھا ہے پس وہ کس بات پر بڑھ بڑھ کر اعتراض کرتا ہے اور مامورمن اللہ کی نسبت کہتا ہے یہ نہیں چاہیے تھا وہ چاہیے تھا۔(البدر جلد نمبر ۳۶ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۸ ء صفحه ۲)